پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، گھریلو تشدد سے تحفظ اور روک تھام کا قانون منظور

اسلام آباد(کھوج نیوز) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں گھریلو تشدد سے تحفظ اور روک تھام کے حوالے سے قانون منظور کرلیا گیا ہے، بل کس نے پیش کیا؟ تمام تفصیلات سامنے آگئیں۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد سے تحفظ اور روک تھام کا بل بل پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے پیش کیا تھا۔گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی زیادتی ہے۔ بل کے مطابق کسی خاتون، مرد، مخنث شخص، بچے یا کمزور شخص کے خلاف کی گئی جسمانی، جنسی یا نفسیاتی زیادتی جو خوف پیدا کرے یا اسے جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچائے وہ گھریلو تشدد ہے۔
بل کے مطابق جسمانی زیادتی سے مراد جسمانی طور پر کسی کمزور شخص کے خلاف کیا گیا تشدد یا ایسا کوئی بھی فعل ہے۔ نفسیاتی اور زبانی بد سلوکی سے مراد ذلت آمیز رویہ ہے جس سے متاثرہ شخص کی آزادی، سکیورٹی، رازداری، سالمیت پر حملہ کیا جائے۔ کسی متاثرہ شخص کی توہین یا تضحیک ، شریک حیات یاگھر کیدیگر افراد کو جسمانی سزا کی دھمکی دینا نفسیاتی اور زبانی زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔
بل کے مطابق پاگل پن یا بانجھ پن کا الزام لگا کر کسی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گھر کی خاتون یا کسی اور رکن کے کردار کے حوالے سے جھوٹے الزامات عائد کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔ متاثرہ شخص کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا، ہراساں یا ا س کاپیچھا کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔ بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا بھی نفسیاتی اور زبانی زیادتی ہے۔
جنسی زیادتی سیمراد جنسی نوعیت کا کوئی بھی عمل ہے جس سے کوئی متاثرہو یا تذلیل محسوس کرے۔ بل کے مطابق متاثرہ شخص کو مشترکہ گھر میں رہنے کاحق حاصل ہوگا، وہ شیلٹر ہوم میں بھی رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ متاثرہ شخص کو پولیس کا تحفظ دیا جائیگا، اس کی مالی، معاشی، طبی یا دیگر ایسی ضروریات پوری کرنا مجرم کی ذمہ داری ہوگی۔ مجرم کو پابند بنایا جائیگا کہ متاثرہ شخص سے کسی قسم کاذاتی، زبانی، تحریری، الیکٹرانک یا ٹیلیفونک رابطہ نہ کرے، اس سے دور یا مخصوص فاصلے تک رہے.
اگر متاثرہ شخص کی جان شہرت یا وقار کو کسی سنجیدہ تشدد کیباعث خطرہ ہے تو عدالت مجرم کو گھر سے نکالنے اور اس کے رشتہ داروں کو گھر داخل ہونے سے روک سکتی ہے۔ اگر متاثرہ شخص بچہ ہے تو عدالت بچے کی کسٹڈی کسی مناسب شخص یا ادارے کو دے گی، اگر متاثرہ فریق بالغ ہے تو کسٹڈی اس کی رضامندی سے کسی شخص یا ادارے کو دی جائے گی۔ بل کے مطابق متاثرہ شخص کی درخواست پر عدالت7 روز کے اندر پہلی سماعت کرے گی، درخواست 90 دن کے اندر نمٹائی جائے گی اگر جرم پینل کوڈ میں شامل نہیں تو گھریلو تشدد پر 6 ماہ سے 3 سال تک سزا اور 20 ہزار روپے سے 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 3 ماہ قید بھگتنا ہوگی جو گھریلو تشدد میں ساتھ دے اسے بھی6 ماہ سے3سال تک قید اور 1لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ فیصلے کے خلاف اپیل 10 دن کے اندر دائرکی جاسکے گی۔



