چیٹ جی پی ٹی بھی فیل ہو گیا،طلبا مکمل انحصار سے پہلے یہ تحریرضرور پڑھیں، حیران کن تحقیق سامنے آگئی
چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو طالبعلموں کی طرح ایک پورا سیمسٹر پڑھایا جائے، تو وہ کتنی کارکردگی دکھائے گا

امریکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی آف الی نوائے کے گریجر کالج آف انجینئرنگ میں ایک دلچسپ تحقیق کی گئی، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اگر چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو طالبعلموں کی طرح ایک پورا سیمسٹر پڑھایا جائے، تو وہ کتنی کارکردگی دکھائے گا۔
ایرو اسپیس انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے محققین نے چیٹ جی پی ٹی کے فری ورژن کو ایک انڈرگریجویٹ کنٹرول سسٹمز کورس میں داخلہ دلوایا بالکل ویسے جیسے ایک عام طالبعلم پڑھتا ہے۔ اس سے وہی ہوم ورک کروایا گیا جو اصل طالبعلم کر رہے تھے۔لیکن اس سب کے نتاین نے سب کو حیران کر دیا جب سید ھے سادے ریاضی کے سوالات میں چیٹ جی پی ٹی نے اے گریڈ حاصل کیا، مگر جیسے ہی سوالات میں سوچ، منطق یا تجزیہ کی ضرورت پیش آئی تو اس کا گریڈ ڈی تک گر گیا۔
ایک پی ایچ ڈی کے طالبعلم گوکل پتھومنیلام نے بتایا، سادہ سوالات پر چیٹ جی پی ٹی بہترین کارکردگی دکھاتا ہے، مگر جیسے ہی تجزیاتی سوچ کی ضرورت پڑی، تواس نے 62 فیصد نمبر لیے، جس کی وجہ سے اس کا مجموعی گریڈ 82 فیصد رہا۔ جبکہ کلاس کے عام طالبعلموں کا اوسط گریڈ 84.85 فیصد تھا۔تحقیق کے مطابق، اگر کوئی طالبعلم بالکل محنت نہ کرے اور صرف چیٹ جی پی ٹی پر انحصار کرے، تو بھی وہ کورس پاس کر سکتا ہے لیکن وہ سیکھے گا کچھ نہیں۔ اس کا اے پلس صرف آسان سوالات پر ہوگا، جبکہ سوچنے والے سوالات پر ڈی مائنس۔
چیٹ جی پی ٹی کے مشیر اور استاد میلکیور اورنک کا کہنا تھا، جیسے کیلکولیٹر ریاضی کا مستقل حصہ بن چکا ہے، ویسے ہی چیٹ جی پی ٹی بھی تعلیم کا مستقبل ہے۔ ہمیں بطور استاد خود کو بدلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اب کورس میں زیادہ تجزیاتی اور پروجیکٹ بیسڈ سوالات شامل کرنے ہوں گے، تاکہ طلبا محض چیٹ بوٹ پر انحصار نہ کریں بلکہ خود سے بھی سوچیں، سیکھیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی تیز ہے اور اکثر درست جوابات دیتا ہے، مگر بعض اوقات اس کے جوابات غلط یا عجیب ہوتے ہیں۔ مثلا اس نے ایک جواب میں "quasi periodic oscillations” جیسے الفاظ استعمال کیے جو کہ کورس میں کہیں شامل نہیں تھے۔
یہ تحقیق عام طالبعلم کے زاویے سے کی گئی ہے ، جو مہنگی چیٹ جی پی ٹی پریمیم سروس نہیں خرید سکتا۔ اس لیے صرف مفت ورژن پر تجربہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق، اگر اسے بتایا جائے کہ اس نے غلطی کی ہے اور درست جواب دیا جائے، تو اگلی بار وہ بہتر جواب دیتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر اس کی کارکردگی جوں کی توں رہتی ہے 90 فیصد سے آگے نہیں بڑھتی۔



