ناسا کی چاند اور اس کے مدار میں جوہری ری ایکٹرز لگانے کی پلاننگ

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) ناسا کی چاند اور اس کے مدار میں جوہری ری ایکٹرز لگانے کی پلاننگ’ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی خلائی ادارہ اس مشن کو 6فروری کو بھیج سکتا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اس مشن میں 4 خلا باز چاند کے مدار پر جائیں گے اور 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی بار انسانوں کی چاند کے مدار میں واپسی ہوگی مگر آرٹیمس 2 مشن کے ساتھ ساتھ ناسا کی جانب سے جلد جوہری ری ایکٹر کو چاند پر بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ امریکی محکمہ توانائی نے ایک مفاہمتی یادداشت میں اعلان کیا کہ ناسا کا اگلا بڑا پراجیکٹ چاند پر جوہری ری ایکٹر کی تنصیب ہوگا۔
امریکی محکمہ توانائی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ اداروں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویژن کے تحت چاند اور اس کے مدار پر جوہری ری ایکٹرز کی تنصیب ہوسکے۔ پوسٹ میں بتایا گیا کہ چاند کی سطح پر 2030 تک جوہری ری ایکٹر کی تنصیب کی جائے گی اور امریکا خلائی کھوج اور تجارت میں دنیا کی قیادت کرسکے گا۔ ناسا کے حال ہی میں تعینات کیے جانے والے نئے منتظم جیراڈ آئزک مین نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قومی خلائی پالیسی کے تحت امریکا چاند پر واپس جانے اور وہاں قیام کے لیے انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ مریخ اور اس سے آگے جانے کے لیے درکار سرمایہ کاری کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔



