مقبوضہ کشمیر، بھارت گھٹنوں پر آگرا، پاکستانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار
15 روزہ دورے میں عالمی ماہرین اور دونوں ملکوں کے سرکاری وفود مل کر علاقے میں متنازع پراجیکٹس پر جاری کام کا جائزہ لیں گے

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مسئلہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت گھٹنوں پر آگرا ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستانی وفد کو مذاکرات کے لئے سرینگر آنے کی دعوت دیدی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2019ء میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پاکستان کے کسی سرکاری وفد کی نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر آمد کو مبصرین اہم قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ دورہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری پن بجلی کے منصوبوں سے متعلق ہے جن پر پاکستان اعتراض عائد کرتا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان سر مہری کے شکار سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے اہمیت دی جا رہی ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پن بجلی کے کم از کم 10 ایسے منصوبے زیرِتعمیر ہیں جن پر پاکستان اعتراضات اٹھا چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان مںصوبوں میں دریائے سندھ اور دیگر دریاوں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ پاکستان کی شکایت سے متعلق زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے لیے عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہرین رواں ہفتے جموں و کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں، بھارت اور پاکستان کے سرکاری وفود بھی ان ماہرین کے ہمراہ ہیں۔ اس 15 روزہ دورے میں عالمی ماہرین اور دونوں ملکوں کے سرکاری وفود مل کر علاقے میں متنازع پراجیکٹس پر جاری کام کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد باہمی ملاقاتوں میں پاکستان کے تحفظات پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ منصوبوں کی وجہ سے وہ مستقبل میں اپنے حصے کے پانی سے محروم ہو جائے گا۔ بھارت پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ زیرِ تعمیر پن بجلی منصوبوں سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جن آبی منصوبوں پر کام جاری ہے وہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ سبھی رن آف دی ریور یابہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔ عالمی بینک کی ثالثی کے نتیجے میں 19ستمبر 1960 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرٹریٹی) کے تحت مغربی دریاں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کو پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ان دریاں کے 80 فی صد پانی پر پاکستان کا حق ہے جب کہ مشرقی دریاں؛ راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا تھا۔ سندھ طاس معاہدے پر اس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے کراچی میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت سندھ، جہلم اور چناب کے بہتے پانیوں سے بجلی پیدا تو کرسکتا ہے لیکن اسے ان دریاوں کا پانی ذخیرہ کرنے یا ان کا بہا کم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے اسی طرح راوی، بیاس اور ستلج پر بھارت کو پراجیکٹ وغیرہ بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔ عالمی بینک دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر ایک طویل مدت تک کی جانے والی کوششوں کے بعد دستخط کروانے میں کامیاب ہوا تھا اور وہی اس معاہدے کا ضامن ہے۔ سرینگر میں صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ عالمی بینک کے غیر جانب دار ماہرین اور دونوں ملکوں کے سرکاری وفود کو 17سے 28 جون تک جاری رہنے والے دورے میں معاونت کے لیے 25 رابطہ افسران مقرر کیے گئے ہیں۔ عالمی بینک کی طرف سے غیر جانب دار ماہرین کا تقرر ایک معمول رہا ہے۔ ان ماہرین کی ذمے داریوں میں پانی پر بننے والے منصوبوں کا معائنہ کرنا، بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینا اور دریاؤں کے پانی کے استعمال کا جائزہ لینا شامل ہے۔



