پاکستان

ہمارے جرنیلوں میں یہ ہمت ہونی چاہئےتھی کہ وہ؟ صحافی سلیم صافی منافقتوں سےپردہ اُٹھا دیا

امریکہ یا کرزئی حکومت پاکستان کے مفادات کا خیال نہیں رکھ رہی تھی تو ہمارے جرنیلوں میں یہ ہمت ہونی چاہئے تھی کہ وہ امریکی اتحاد سے نکل جاتے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ہمارے جرنیلوں میں یہ ہمت ہونی چاہئےتھی کہ وہ؟ صحافی سلیم صافی منافقتوں سےپردہ اُٹھا دیا، امریکا پاکستان پرڈبل گیم کا الزام،صحا فی سلیم صافی نے منافقتوں بھری کہانی کھول کر رکھ دی،سلیم صافی مقی اخبار میں لکھتے ہیں کہ منافقت کا انجام اللہ نے قرآن میں کفر سے بدتر قرار دیا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے منافقت کی سزا مل رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ ہم ملا عمر کی طرح رسک لے کر امریکہ، اس کے اتحادیوں بلکہ اقوام متحدہ کو ’’ناں‘‘ کرتے اور دوسرا راستہ اس عالمی اتحاد میں شمولیت کا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے ثانی الذکر فیصلہ کیا۔ اب اگر اس کے بعد امریکہ یا کرزئی حکومت پاکستان کے مفادات کا خیال نہیں رکھ رہی تھی تو ہمارے جرنیلوں میں یہ ہمت ہونی چاہئے تھی کہ وہ امریکی اتحاد سے نکل جاتے لیکن چونکہ ایسی جرات نہ کر سکے اس لئے در پردہ دوبارہ افغان طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ ایک طرف امریکہ کے اتحادی تھے۔ اس کے بدلے میں اس سے ڈالر بھی لے رہے تھے۔

اس کو زمینی راستہ بھی دے رکھا تھا۔ ڈرون کے اڈے بھی دے رکھے تھے۔ ملا عبدالسلام ضعیف اور ڈاکٹر غیرت بھیر کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے بھی کیا۔ ملا عبیداللہ اخوند اور ملا برادر جیسے طالبان کے اہم رہنمائوں کو امریکی خوشنودی کیلئے گرفتار بھی کیا لیکن دوسری طرف طالبان کی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجودگی اور سرگرمیوں سے صرف نظر کیا جس کی وجہ سے وہاں ٹی ٹی پی کو پنپنے کا موقع ملا۔ دوسری طرف ہمارے جرنیل صاحبان نے ایم ایم اے اور عمران خان کو میدان میں اتارا، جو افغان طالبان کے حق میں اور امریکہ کے خلاف یا پھر ڈرون حملوں کے خلاف تحریکیں چلا رہے تھے۔ میڈیا پر دانشوروں اور دفاعی تجزیہ کاروں کو یہ ہدایت تھی کہ وہ افغان طالبان کو اچھا اور پاکستانی طالبان کو برا کہیں، حالانکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔

امریکہ ہم پر ڈبل گیم کا الزام لگاتا رہا لیکن ہم نہ سدھرے۔ پھر جب ہمارے اپنے سرحدی علاقے اور سوات میدان جنگ بن گئے تو حامد کرزئی اور اشرف غنی ہماری منتیں کرتے رہے کہ ہمارے دشمنوں یعنی طالبان کو پناہ دینے سے باز آجائو لیکن ہم اپنی ہزاروں لاشیں اٹھانے کے باوجود باز نہ آئے۔ ایک مرحوم جرنیل صاحب ٹی وی پر آکریہاں تک کہتے رہے کہ ’’مورخ یہ لکھے گا کہ ایک مرتبہ پاکستان آرمی نے امریکہ کے ہتھیاروں سے سوویت یونین کو شکست دی اور دوسری مرتبہ پاکستان آرمی نے امریکی ہتھیاروں سے امریکہ کو شکست دی‘‘۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button