پاکستان

پاکستان میں بجلی کے بھاری بھرکم بل، عوام کے غم و غصہ کا لاوا پھٹنے کو تیار

آج بھی مراعات یافتہ طبقات، اشرافیہ، واپڈا اور ڈسکوز کے ملازمین، سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور بجلی چور مفت یا سبسڈی والی بجلی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

لاہور(کھوج نیوز) پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بھرکم بل کے باعث عوام کے غم و غصہ کا لاوا پھٹنے کو تیار ہے جو کبھی بھی کسی بھی وقت پھٹ جائے گا جو حکومت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہونے کے باوجود بجلی غریبوں کے لیے ایک ناقابل رسائی سامان عیش و عشرت بن چکی ہے جو اس شعبے کی بدانتظامی کا خمیازہ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ آج بھی مراعات یافتہ طبقات، اشرافیہ، واپڈا اور ڈسکوز کے ملازمین، سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور بجلی چور مفت یا سبسڈی والی بجلی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے آئے ہیں جبکہ عام آدمی ان سب کا بوجھ اور پورا نقصان اٹھاتا ہے۔ بجلی کی بے تحاشا چوری سے صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے جس کا تخمینہ کل پیداوار کا تقریبا 20 سے 30 فیصد ہے جو کہ بغیر جانچ پڑتال کے اور بلا روک ٹوک جاری ہے۔ اس میں تحریک انصاف کی حکومت میں چلنے والا خیبر پختونخوا سرفہرست ہے۔

غریب، جو پہلے ہی رزق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مراعات یافتہ طبقات اور بجلی چوروں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ بجلی کے بلوں کا بوجھ ان کے کندھوں پر بہت زیادہ ہے جو بہت سے لوگوں کو غربت اور مایوسی میں دھکیل رہا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ بجلی کے شعبے کی بدانتظامی کا بوجھ ان لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو کم سے کم استطاعت رکھتے ہیں جبکہ اس ساری صورت حال کے ذمہ دار ہر احتساب سے بالاتر اور مزے میں ہیں۔

دوسرا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی چوری ہے جس نے اس شعبے کو ادھ موا کر دیا ہے اور کل وقتی پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔ اندازوں کے مطابق کل پیداوار کا 20 سے 30 فی صد چوری ہو جاتا ہے۔ 2019 میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران آئی ایم ایف کے پروگرام میں داخل ہونے کے فیصلے نے بھی اس ٹیرف میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ فنڈ کی شرائط نے سبسڈی کو ختم کرنا اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا تعین کرنا لازمی قرار دیا۔ مزید براں، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگی بجلی کی پیداوار اور انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کی جانب سے فرنس آئل پر انحصار نے قیمتوں میں اضافے کے اس طوفان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان گہرے زخموں پر نمک پاشی کے طور پر مراعات یافتہ طبقات مفت بجلی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں، جبکہ عام آدمی اس کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کا بوجھ پوری طرح غریب عوام کے کندھوں پر ہے۔

2018ء میں پاکستان میں بجلی کا ٹیرف 12.91 روپے تھا۔ ایک ایسی شرح جو پہلے ہی عام آدمی کی جیب پر بھاری تھی۔ پھر تبدیلی کا سال آیا، ریاست مدینہ کی تعمیر شروع ہوئی اور تبدیلی اس بدنصیب ملک کے بدنصیب عوام کی ہر خوشی اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ یہ تبدیلی تباہی اور بربادی کا سونامی بن کر آئی، سب کچھ ملیا میٹ کر کے اپنے حواریوں کی جیبیں اور تجوریاں بھر کے غائب ہو گئی۔ حیرت یہ ہے کہ ملک اجاڑنے کے بعد بھی یہ گدھ ابھی تک منڈلا رہے ہیں۔ بہرحال بات ٹیرف کی ہو رہی تھی، اب 2024 تک اس میں مجموعی طور پر 322 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس نے پاکستانی عوام کو پریشان کر دیا ہے۔ اس بے مثال اضافے کے پیچھے وجوہات کثیر جہتی ہیں لیکن سب سے زیادہ قصور وار تحریک انصاف اور اس کو لانے والے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button