انسانی سمگلنگ کی روک تھام ،وزیراعظم کی زیر صدرات اہم اجلاس
ڈائر یکٹر انٹیلی جنس بیورو نے انسانی سمگلرز اور اس میں ملوث ایف آئی اے ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن پر رپورٹ بوزیر اعظم کو پیش کی

اسلام آباد(کھوج نیوز)انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے وزیر اعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں انسانی میں سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ۔ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو انسانی سمگلرز اور اور اس میں ملوث ایف آئی اے ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن پر حقیقی پراگرس رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی گئی ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے ملازمین کے خلاف سخت کریمنل عدالتی کاروائی کرنے کا حکم دیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس اجلاس میں سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے پاکستانی سفارتخانوں میں ایف آئی اے کے افسران تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انسانی سمگلنگ روکنے کے لئے ایف آئی اے میں گریڈ 20 اور 21 کے مزید افسران کی تعیناتی کی ہدایات کی گئی۔ سیکرٹری وزارت خارجہ اور داخلہ ڈی جی ایف آئی سے مشاورت کر کے نیا قانونی ڈھانچہ بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔
سیکرٹری داخلہ نے ائرپورٹس پر مسافروں کی سکریننگ سسٹم، ای- گیٹس اور دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ روکنے کے جدید ترین ٹیکنالوجی پر تجاویز دیں۔ڈی جی ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کی مشاورت سے انسانی سمگلرز اور ان کی مدد کرنیوالے ایف آئی اے افسران و ملازمین کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی اور سزاؤں کے بارے بریفنگ دی گئی۔بیرون ملک ایسے مقامات جو انسانی سمگلنگ کے گڑھ ہیں وہاں بھی ڈی جی ایف آئی اے نشان دہی کر کے ان کے خلاف کاروائی کے بارے سفارشات دیں گے۔اس کے علاوہ حکومت پاسپورٹ قوانین 2021 میں ترمیم کر کے بیرون ملک اسائلم لینے والوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کے اقدامات پر بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ سیکرٹری خارجہ نے لیبیا اور روس سمیت دوسرے ممالک سے ٹرانزٹ میں رکے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کے اقدامات کے بارے بھی پلان فراہم کیا۔





