پاکستان

سانحہ پمز، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تحقیقاتی کمیٹی کو طلب کرلیا

اسلام آباد(کھوج نیوز) سانحہ پمز کے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو طلب کرلیا ہے مگر کیوں؟ اس حوالے سے تمام تر تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عامرچشتی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کو بھی بلایا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے، ڈی سی، آئی ایچ آر اے، سول ڈیفنس سے بالکل مطمئن نہیں، پوری اسٹینڈنگ کمیٹی وفاقی وزیر صحت کے ساتھ کھڑی ہے، پورے پاکستان کی ایک پالیسی ہونی چاہیے، چیئرمین سی ڈی اے، ڈی سی نے شہر کو برباد کیا ہوا ہے۔

اجلاس میں وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ سرکار کو اسپتال نہیں چلانا چاہیے۔ اجلاس میں سینیٹر ندیم بھٹو نے کہا ریفارمز کی بات ہو رہی ہے، اسلام آباد کی بات کر رہے ہیں، جنوبی پنجاب کی بات نہیں کر رہے، یہاں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے، رپورٹ میں جس کا ذکر ہے اصل میں وہ کچھ ہے ہی نہیں، دکھایا کچھ جا رہا ہے اور بتایا کچھ جا رہا ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ آپ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بلالیں، ان کو سب سے زیادہ پتہ ہے، سب سے زیادہ معلومات وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کے پاس ہیں، ای ڈی تو کل آئے ہیں ان کو کچھ پتہ نہیں ہوگا،جن کو معطل کیا گیا ہے ان کو سن لیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ معلومات انکوائری رپورٹ بنانے والیکمیٹی ممبران اور معطل ہونے والے 8 لوگوں کے پاس ہیں، ان 8 لوگوں کو بلا لیں، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم انکوائری کمیٹی کو بھی بلا کر سنیں گے۔

سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ ہم نے کمیٹی اجلاس اس لیے بلایاکہ ہمیں چیزیں ملیں۔ سینیٹر ناصر بٹ نے پوچھا کہ آپ کا کام کیا ہے ؟ جس پر سی ای او آئی ایچ آر اے کا کہنا تھا کہ ہم ریگولیٹری باڈی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ نے ایک ماہ میں کتنے دورے کیے؟ جس پر سی ای او جواب نہ دے سکیں اور کہا ہم دورے کر رہے ہیں۔ ایم این اے سبین غوری نے کہا کہ ہم سانحے کے بعد اگلے دن یہاں آئے تھے، خراب اے سی میں بلاسٹ ہوا جو ہمیں بتایا گیا، ہمیں اسپتال نے بتایا تھاکہ سکیورٹی گارڈز کی آخری ڈرل فروری میں ہوئی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button