امام الحق کا جھوٹ بے نقاب، مستقبل دائو پر لگ گیا

لاہور(سپورٹس ڈیسک) پاکستان کے بیٹسمین امام الحق کا انگلینڈ میں انجری کے حوالے سے بڑا جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے جس کے بعد ان کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کے مطابق ماضی کے واقعے کے باعث پی سی بی ایک بار پھر امام الحق کی حالیہ انجری کی بھی تحقیقات کرے گا، پی سی بی کی انکوائری کمیٹی نے مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران امام الحق کو جعلی انجری بتانے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ 28 مارچ 2025 کو انڈور نیٹ سیشن میں امام الحق کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر گیند لگی تھی، ایکسرے میں ان کے انگوٹھے میں فریکچر یا ہڈی کے اپنی جگہ سے ہٹنے کے شواہد نہیں ملے تھے۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل ٹیم کی ہدایت کے باوجود امام الحق مبینہ طور پر افطار کے لیے تقریبا 500 میٹر پیدل گئے، انہوں نے بعد میں انگوٹھے میں شدید درد اور اس کے سیاہ پڑنے کی شکایت کی تھی۔
ٹیم ڈاکٹر نے مخصوص کیمیکل والے پیپر سے انگوٹھا صاف کیا تو مبینہ سیاہ نشان صاف ہوگیا۔ پی سی بی کی کمیٹی کے مطابق انگوٹھے سے صاف ہونے والا سیاہ مادہ قدرتی خون کا نشان نہیں بلکہ سیاہی یا مارکر تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امام الحق نے کمیٹی کے سامنے انگوٹھے پر سیاہی یا کسی مصنوعی مادے کے استعمال سے انکار کیا تھا، کمیٹی نے ان کی وضاحت کو طبی شواہد، ایکسرے اور انگوٹھے کی ظاہری حالت سے متصادم قرار دیا تھا۔ ٹیم حکام کے مطابق امام الحق نگرانی میں لنگڑاتے جبکہ نظروں سے اوجھل ہونے پر معمول کے مطابق چلتے دکھائی دیے۔
پی سی بی کی انکوائری کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ امام الحق کو پہلے ون ڈے کے لیے ان فٹ قرار دینے کی کوئی طبی بنیاد نہیں تھی۔ کمیٹی نے امام الحق کو انجری کی علامات جعلی بنانے، انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور طبی عملے کو گمراہ کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا، کمیٹی کے مطابق امام الحق نے جان بوجھ کر خود کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہر رکھنے کی کوشش کی۔ انکوائری کمیٹی نے امام الحق پر تمام فارمیٹس اور تمام سطح پر پاکستان کی نمائندگی سے پابندی کی سفارش کی تھی، کمیٹی نے اس حرکت کو دانستہ، پہلے سے طے شدہ اور دھوکا دہی پر مبنی قرار دیا تھا۔



