انٹرنیشنل

ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکا شریک نہیں،امریکی صدر وضاحتیں دینے پر اُتر آئے

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکا پر کسی بھی شکل میں حملہ کیا تو اسے امریکی فوج کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا

واشنگٹن(ویب ڈیسک)ایران پر اسرائیلی حملوں میں امریکا شریک نہیں،امریکی صدر وضاحتیں دینے پر اُتر آئے،رپورٹ کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکا پر کسی بھی شکل میں حملہ کیا تو اسے امریکی فوج کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران پر اسرائیلی حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر ہونے والے حملے میں امریکا شامل نہیں تھا، لیکن اگر ایران نے امریکا پر حملہ کیا تو ہماری فوج پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گی۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہم آسانی سے ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک امن معاہدہ کروا سکتے ہیں اور اس خونی تنازعے کا خاتمہ ممکن ہے۔ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ تقریبا 35 افراد لاپتا ہیں۔


سب سے زیادہ نقصان بات یم اور ریشون لیزیون جیسے علاقوں میں ہوا جہاں رہائشی عمارتوں پر براہ راست حملے ہوئے۔ امدادی ٹیمیں اب بھی کئی مقامات پر ملبے تلے لوگوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ یہ صورتحال فوری ختم ہونے والی نہیں اور تنازع دنوں کے بجائے ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ایران نے ہفتے کی شب ایک مرتبہ پھر اسرائیل پر حملہ کردیا اور ساتھ یہ دعوی بھی کیا کہ اس نے اسرائیلی شہر حیفا میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔


ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تازہ ترین حملے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریبا 11 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئے اور ان حملوں کا مرکزی ہدف حیفا شہر تھا، جو صیہونی ریاست کی کئی اہم فوجی اور صنعتی تنصیبات کا مرکز ہے۔ حملے کے ساتھ ہی پورے علاقے میں سائرن بجنا شروع ہوگئے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قابض ریاست کی جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہے، جس کا مقصد صیہونی قیادت کو واضح پیغام دینا ہے کہ جارحیت کا مثر جواب دیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button