اے آئی ٹیکنالوجی کا ارتقاء انسانوں کیلئے خطرہ کیوں؟ تحقیق نے چونکا دیا

بیلجیئم (مانیٹرنگ ڈیسک) آر ٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) ٹیکنالوجی کا ارتقاء انسانوں کے لیے خطرہ کیوں بن سکتا ہے؟ اس حوالے سے برسلز یونیورسٹی میں ہونیوالی تحقیق نے چونکا دیا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بیلجیئم کی برسلز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ یہ ناگزیر ہے کہ یہ سسٹمز بتدریج زیادہ طاقتور ہو جائیں گے۔ تحقیق میں زور دیا گیا کہ ارتقائی مراحل سے ہی انسانی ذہنی صلاحیتیں تیز ہوئیں اور حیاتیاتی ارتقا کا یہ عمل اے آئی سسٹمز کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور انہیں کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوگا۔
محققین کے مطابق تصور کریں کہ ایک بیکٹیریا ارتقائی عمل سے گزر کر ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے لگتا ہے یا کس طرح کیڑے مار ادویات کیڑوں کے خلاف بے اثر ہو جاتی ہیں، ایسا ہی کچھ اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو پھیلنے یا کنٹرول کرنے کی ہر کوشش سے اے آئی ٹیکنالوجی بتدریج یہ سیکھ لے گی کہ ان سے کیسے بچا جائے۔ درحقیقت ان کا کہنا تھا کہ زیادہ بدترین چیز یہ ہوسکتی ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی ذہین ہو جائے کہ وہ انسانوں کو دھوکا دینے میں ماہر بن جائے۔
ایسے اسمارٹ سسٹمز کو کنٹرول کرنا مشکل ترین ہوگا اور اے آئی کے ارتقا کی ممکنہ رفتار کافی پریشان کن ہے۔ حیاتیاتی ارتقا کا عمل سست ہوتا ہے اور اس کا انحصار جینیاتی میوٹیشنز پر ہوتا ہے مگر اے آئی کو ارتقا کے لیے میوٹیشنز کی ضرورت نہیں۔ ایک بیکٹیریا بذات خود ادویات کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ نہیں کرسکتا بلکہ اسے ڈی این اے میں کسی خوش قسمت حادثے کا انتظار کرنا ہوتا ہے مگر اے آئی کو اس مسئلے کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ وہ خود کو اس مقصد کے لیے خود کو ری ڈیزائن کرسکتی ہے۔ اس طرح اے آئی ٹیکنالوجی کی ارتقا کا عمل انسانوں یا کسی جاندار کے مقابلے میں لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ تیز رفتاری سے مکمل ہوگا۔



