پاکستان

سانحہ پمز میں 14نومولود کی ہلاکت، پارلیمنٹ کا بڑا مطالبہ

اسلام آباد(کھوج نیوز) سانحہ پمز اسپتال میں ہونے والی 14نومولود کی ہلاکتوں پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے تحقیقات کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرصحت مصطفی کمال نے یقین دہانی کرائی کہ سانحے میں ملوث کوئی شخص نہیں بچے گا، سارے افسران لائن حاضر کریں گے،کوئی ایم این اے،کوئی سینیٹر پھر فون نہ کریں کہ اس بندے کو کیوں ہٹایا۔ اپوزیشن سے کہا آپ گائیڈ کریں، روڈ میپ دیں، تاریخوں اور کمیٹیوں کی حد تک معاملے کو محدود نہ کریں۔ مصطفی کمال نے کہا معاملے پر حل نکالیں تاکہ اگلے سانحے سے بچا جاسکے۔

پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے کہا حکومتی کمیٹیوں پر اعتماد نہیں ہے، ان کمیٹیوں میں سب لوگ ایک دوسرے کی تحقیقات کر رہے ہیں، جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ انخلا کے راستے کھلے تھے، سب راستے بند تھے، عملہ سو رہا تھا، سیکرٹری کو معطل کر دینا کافی نہیں، سینیٹ کی کمیٹی بنائیں جو تحقیقات کرکے 40دن میں رپورٹ دے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ معصوم بچے کسی نااہلی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں، حقائق عوام کے سامنے لائیں۔ قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ناصر عباس نے سانحہ پمز کو قتل قرار دیا، والدین پر دباؤڈالے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے راجہ ناصرعباس نے کہاکہ یہ واقعہ غفلت نہیں، قتل ہے۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا سانحے پر تحقیقاتی کمیٹی آج رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، تفصیلی رپورٹ 7روز میں تیار ہوگی، رپورٹ کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے، سانحے پر سیاست کے بجائے ٹھوس تجاویز دی جائیں۔ اپوزیشن کا سانحہ پمز کے لیے قائم حکومت کی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کی سربراہی میں حکومت کی کمیٹی قائم کی جائے، اسپتال حکومت کی ترجیحات ہی نہیں، پمز واقعے میں جس کی غلطی تھی اسے سزا دی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button