انٹرنیشنل

مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت میں سوالیہ نشان لگ گیا

مغربی بنگال(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، کیونکہ مسلم ووٹروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایاگیاہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل اسپیشل انٹینسیو رویژن کی آڑ میں 90 لاکھ ووٹرز فہرستوں سے حذف کیے گئے زیادہ تر ووٹرز مسلم اور دلت علاقوں سے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر غیراخلاقی کھیل کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھاکہ مسلم ووٹروں کو منظم انداز میں نشانہ بنایاگیا۔

مبصرین کے مطابق نتائج کیاعلان کے بعد مختلف علاقوں میں تشدد، حملوں اور مذہبی کشیدگی کی اطلاعات نے صورتحال کو مزیدسنگین بنایا، بعض مقامات پرمسلم شناخت سے منسوب بورڈز ہٹانے اور ہندوعلامات لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ بی جے پی رہنما سووندو ادھیکاری کے ماضی کے بعض بیانات بھی دوبارہ موضوعِ بحث ہیں جبکہ اپوزیشن حلقوں کے مطابق سووندو ادھیکاری کے بیانات اقلیتوں کیخلاف سخت سیاسی مؤقف کے عکاس ہیں۔ سیاسی مبصرین نے انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی کو بھی قابل بحث قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت سکیورٹی نے خوف کا ماحول پیدا کیا جس سے ووٹر ٹرن آؤٹ متاثرہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button