پاکستان

ایران میں ہلاک ہونیوالے پاکستانی نوجوان کی کونسی خواہش ادھوری رہ گئی؟

کراچی (کھوج نیوز) اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی سمندر میں مال بردار جہاز پر ہوئے حملے میں ہلاک ہونیوالے پاکستانی نوجوان کی کونسی خواہش ادھوری رہ گئی؟ افسوناک خبر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی سمندر میں مال بردار جہاز پر ہوئے حملے کے نتیجے میں ہلاک 25 سالہ پاکستانی نوجوان یاسر خان کی میت کراچی کے علاقے یونس آباد منتقل کردی گئی ہے۔ نماز جنازہ عشاء کے بعد ادا کی جائے گی۔ یاسر خان بطور سی مین مرچنٹ نیوی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ 25 مارچ کو حملے کے نتیجے میں ان کا بحری جہاز ڈوب گیا اور یاسر کی جان چلی گئی۔

یاسر کے بھائی امجد خان نے بتایا کہ بحری جہاز پر آٹھ سے نو افراد سوار تھے۔ ان میں سے صرف سبحان نامی ایک نوجوان زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے ہی امجد خان کو فون کر کے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔ فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن نے پاکستان ایران بارڈر پر تفتان کے مقام سے یاسر خان کی میت کراچی منتقل کی ہے۔ تفتان سے یاسر کی میت لانے والے امجد خان نے بتایا کہ اپنے بھائی سے ان کی آخری بات عید کے دوسرے دن ہوئی تھی۔ یاسر بہت خوش تھے اور وطن واپسی کے منصوبے بنا رہے تھے۔

امجد خان کے مطابق اس نے کہا تھا کہ میں پاکستان آؤں گا، سب سے پہلے اپنے لیے موٹر سائیکل خریدوں گا اور پھر گاؤں جا کر سب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ امجد کے مطابق یاسر نے ایران کے خراب ہوتے ہوئے حالات پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ وہ بندر عباس کی بندرگاہ پر اتر کر جلد از جلد پاکستان واپس آنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی۔ امجد خان نے بتایاکہ جب یاسر پیدا ہوا تھا تو میں اسے ہسپتال سے گھر لے کر آیا تھا اور آج اس کی میت کو بھی میں ہی لے کر جا رہا ہوں۔ میرے دل پر کیا گزر رہی ہے، یہ میرا اللہ جانتا ہے یا پھر میں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button