پاکستان

حکومتی وفد کی جماعت اسلامی سے ملاقات، کیا معاملات طے پائے؟

لاہور(کھوج نیوز) حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کے رہنمائوں سے ملاقات کی ہے اس ملاقات میں کیا معاملات طے پائے؟ اس حوالے سے اندرونی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی وفد نے منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف ملے، اس کے لیے حکومت نے ٹیم تشکیل دی ہے، جماعت اسلامی سے بھی کہا کہ اگر ایسی تجاویز ہیں جس سے پیٹرول قیمتوں کا بوجھ کم کرسکیں تو دیں، جماعت اسلامی سے کہا کہ ٹیم بنائیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم نہیں چاہتیکہ ملک میں اس وقت ایسی صورتحال ہو جس سے دشمن فائدہ اٹھائے، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہیکہ ہم سب مل کر داخلی امن قائم رکھنیکی کوشش کریں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس سال تو حکومت نے لیوی کی مد میں ہدف سے زیادہ رقم جمع کی ہے، مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے، لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ہم نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، پیٹرول کی قیمت، لیوی، آئی پی پیز اور روٹی کی قیمت کم کرنا ہمارے مطالبات ہیں، پیٹرول پر لیوی ختم اور قیمت بھی کم ہونی چاہیے، جن پر ٹیکس عائد نہیں ہوتا وہ بھی 35 فیصد ٹیکس ادا کر رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کا مقصد ریفائنریز کو بہتر کرنا تھا، ہم سے جنگی حالات میں بھی لیوی وصول کی گئی۔

اس موقع پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے بتایا ہے ان کے پاس ایسی تجاویز ہیں جن سے عوام کو ریلیف ملے، حکومت جماعت اسلامی کے قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کریگی۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 19دن سے ملک میں 30 جگہ جماعت اسلامی کے دھرنے ہو رہے ہیں، ہمیں کوئی شوق نہیں عوام کو درپیش مسائل کی وجہ سے دھرنے دے، 6 سال میں ملک میں غربت میں33 فیصد اضافہ ہوا، موٹرسائیکل والا ایک لیٹر پیٹرول پر 35 فیصد ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے، اس بجلی کے پیسے عوام دینے پر مجبور ہیں جو بنتی بھی نہیں، پیٹرول پر لیوی معطل کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا گیا، جب سے لیوی شروع ہوئی ہے،8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button