سندھ کی تقسیم کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

سندھ (کھوج نیوز) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، قومی اسمبلی کو خبر دار کرتے ہیں تم سندھ تقسیم کی بات بھی نہیں کرسکتے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں، فیصلہ یہاں ہونا ہے پتا چل جائیگا کون ساتھ ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے، سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں، ون یونٹ کے قیام کے معاملے پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا،سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، لاہور میں ایک پروگرام میں دی سسٹم ہیز کولیپسڈ کہا گیا اور اس پر تالیاں بجائی گئیں،سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے، کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے؟
وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث میں صرف آبادی کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا، بات گورننس کی ہے تو بہتر بنانیکے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے معاملے پر ضرور تفصیلی بحث ہوسکتی ہے، انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے، ضرورت پڑی تو سندھ میں مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بھی بنائے جاسکتے ہیں، مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہماری ترجیح ہے، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے قانون میں مزید ترامیم لانے پر کام جاری ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مصطفی کمال کہتے ہیں انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، ایم کیو ایم والے یہاں کہتے ہیں سندھ تقسیم نہ ہو، یہ ہوتا ہے دوغلا پن، ایم کیو ایم والے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں، ان میں سے ایک بھی انتخاب جیتا ہوا نہیں ہے۔ اگر یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے تو شاید ایسی صورتحال پیدا نہ ہوتی، ان اراکین میں سیکسی ایک نے بھی عوام کے ووٹ سے کامیابی حاصل نہیں کی، ان اراکین کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر سامنے رکھ سکتا ہوں،بعض اراکین انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچے۔



