پاکستان

کتنے فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے؟ سکیورٹی ذرائع نے بتا دیا

اسلام آباد(کھوج نیوز) پاکستان میں مسلسل دراندازی کی کوشش کرنے والے کتنے فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے؟ اس حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے تمام تر تفصیلات بتا دیں۔

تفصیلات کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں مارے گئے 260 افغان دہشتگردوں کی نام، پتے اور خاندانی تفصیلات کے ساتھ شناخت ہو چکی ہے جبکہ غیر شناخت شدہ اور فعال دہشتگرد اس اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ ہلاک افغان دہشتگردوں کے جنازے آبائی علاقوں میں ہوئے، طالبان رجیم کے عہدیدار بھی جنازوں میں شریک ہوئے ہیں، پاکستان میں دراندازی کرنے والے فتنہ الخوارج کے گروپس میں 70فیصد تک دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج کی افرادی قوت تقریبا 6000سے 6500دہشتگردوں پر مشتمل ہے جبکہ 2025میں فتنہ الخوارج نے 600 سے زائد دہشتگرد حملوں میں متعدد حملے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج نے کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں، تربیتی مراکز میں افغان طالبان کے اہلکاروں کی بھی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے، دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی ہوتے ہی طالبان رجیم دہشتگردوں کے دفاع میں سامنے آ جاتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں القاعدہ اور داعش کی موجودگی کا بھی انکشاف کر چکی ہیں۔پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں اور سرحد پار دراندازی بند کی جائے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کی پشت پناہی سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی میں سرگرم ہیں، 2026میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں 1327پاکستانی شہید اور 2484زخمی ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے چھوڑا گیا امریکی و نیٹو اسلحہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد وں کو فراہم کیا، امریکی ساختہ M-4رائفلیں، Remingtonسنائپر رائفلیں اور نائٹ وژن ڈیوائسز اب دہشتگردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button