شدید گرمیوں میں اے سی کا استعمال رات کی نیند کیوں متاثر کرتا ہے؟

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) شدید گرمی میں اے سی کا استعمال رات کے نیند کیوں متاثر کرتا ہے؟ اس حوالے سے بھارت میں ہونے والی طبی تحقیق نے سب کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ متعدد مریضوں کی جانب سے اے سی والے کمروں میں سونے کے باوجود نیند کے ناقص معیار کی شکایت کی گئی ہے۔ وہ افراد راتوں کو بار بار جاگنے اور پسینے جبکہ صبح سر درد اور دن بھر تھکاوٹ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافے نے نیند کے قدرتی عمل کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق دن کے اوقات میں زیادہ وقت تک شدید گرمی کا سامنا کرنے اور غیر معمولی حد تک گرم راتوں کے باعث جسم کی نیند کے دوران درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہاں تک اے سی سے بھی جسم پر گرمی سے مرتب اثرات کا مکمل ازالہ نہیں ہو پاتا، خاص طور پر ان کمروں میں جو بہت زیادہ ٹھنڈے ہوں یا وہاں ہوا کی نکاسی کا نظام ناقص ہو۔ ڈاکٹروں نے انتباہ کیا کہ دمہ، سلیپ اپنیا، سانس کی نالی کی الرجی کے امراض، امراض قلب اور ڈی ہائیڈریشن کے شکار افراد کے لیے یہ اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ بھارت کے متعدد خطوں میں رواں سال ہیٹ ویوز کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اچھی نیند موسم گرما کے دوران صحت کو درست رکھنے کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔
Fortis Escorts ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ایوی کمار کے مطابق طبی ماہرین نے اے سی کے استعمال کے باوجود نیند متاثر ہونے کی شکایات میں نمایاں اضافے کو رپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایسے متعدد مریض آئے ہیں جن کی جانب سے اے سی کے استعمال کے باوجود نیند متاثر ہونے کی شکایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جسم کا درجہ حرارت کچھ کم ہوتا ہے تو اچھی نیند کا حصول ممکن ہوتا ہے مگر زیادہ درجہ حرارت میں وقت گزارنے خاص طور پر غیر معمولی حد تک گرم راتوں سے یہ قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اچھی نیند کے لیے جسمانی درجہ حرارت میں معمولی کمی ضروری ہوتی ہے، مگر بہت زیادہ گرم موسم میں ایسا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ جسم کی یہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔



