بچپن میں فروٹ جوسز اور میٹھے مشروبات کے استعمال سے جوانی میں کونسی بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟
بچپن میں میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس اور 100 فیصد فروٹ جوسز کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے: تحقیق میں دریافت

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بچپن میں فروٹ جوسز اور میٹھے مشروبات کے استعمال سے جوانی میں کونسی بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے طبی تحقیق سامنے آنے کے بعد سب دنگ رہ گئے ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں 25 ہزار سے زائد جوان افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی صحت کا جائزہ 25 سال تک لیا گیا۔ تحقیق میں دریافت ہوا کہ بچپن میں میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس اور 100 فیصد فروٹ جوسز کا استعمال جوانی میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پھلوں کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں غذاؤں اور بلڈ پریشر کے درمیان تعلق پر کام تو کیا گیا مگر ان میں بالغ افراد پر توجہ مرکوز کی گئی مگر اس تحقیق میں جن افراد کو شامل کیا گیا، آغاز میں ان کی عمر 12 سال تھی اور پھر دہائیوں تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق میں امریکا بھر سے تعلق رکھنے والی نرسوں کے بچوں 1996 سے 2004 کے درمیان شامل کیا گیا۔ ان افراد کی صحت کا جائزہ اوسطا 36 سال کی عمر تک لیا گیا اور ہر 4 سال کے دوران ان افراد سے غذا، ورزش، نیند اور صحت کے حوالے سے تفصیلی سوالنامے بھروائے گئے۔2021 میں تحقیق کے اختتام پر 6.3 فیصد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی۔ تمام تر عناصر جیسے جسمانی سرگرمیوں، اسکرین ٹائم، نیند، تمباکو نوشی، جسمانی وزن اور مجموعی غذائی معیار کو مدنظر رکھنے پر دریافت ہوا کہ میٹھے مشروبات، فروٹ جوسز اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق موجود ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ بچپن میں جو افراد روزانہ 2 یا اس سے زائد فروٹ جوسز یا میٹھے مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جوانی میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر کا خطرہ 52 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ سوڈا کے استعمال سے یہ خطرہ 23 فیصد، اسپورٹس ڈرنکس سے 36 فیصد اور فروٹ جوسز سے 35 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر مشروبات کی جگہ پھلوں کے استعمال کو عادت بنایا جائے تو ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔



