کیا شوگر کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟ طبی تحقیق آگئی

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا ذیابیطس یا شوگر کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟ اس حوالے سے حیران کن طبی تحقیق سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں آم کے شوقین افراد حیران و دنگ رہ گئے ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یقینا ذیابیطس کے مریض آموں کو دل بھر کر نہیں کھاسکتے مگر مکمل گریز بھی ضروری نہیں۔ ذیابیطس کے مریض بھی آموں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں مگر اعتدال میں رہ کر۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔ آموں میں کاربوہائیڈریٹس (گلوکوز، شکر، نشاستہ اور سلولوز جیسے کیمیائی مرکبات کا گروہ) نامی غذائی جز موجود ہوتا ہے جو جسم کے اندر شکر میں تبدیل ہوکر بلڈ گلوکوز کی سطح پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ درحقیقت ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی ہر غذا کا انتخاب گلائسمک انڈیکس (جی آئی) کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔ اس انڈیکس میں کسی غذا کی درجہ بندی بلڈ شوگر پر مرتب ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھ کر 0 سے 100 اسکور کے درمیان کی جاتی ہے۔
0 سے مراد بلڈ شوگر پر کوئی اثر مرتب نہ ہونا ہے تو 100 خالص چینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس انڈیکس میں شامل ہر وہ غذا جس کے حصے میں55 سے کم نمبر آیا ہو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر انتخاب تصور کیا جاسکتا ہے اور آم (اس کا اسکور 51 ہے) ایسا ہی پھل ہے۔ یعنی اس کو کھانے سے بلڈ گلوکوز کی سطح پر فوری طور پر بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس پھل میں موجود فائبر نامی ایک اور غذائی جز بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ فائبر کے باعث جسم میں شکر کے جذب ہونے کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور بلڈ شوگر کی سطح پر بتدریج اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اعتدال میں رہ کر آموں کو کھانا ہی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر ہے، زیادہ مقدار میں اسے کھانے سے بلڈ شوگر بہت تیزی سے بڑھے گا جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔



