صحت

کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے امریکا کی یونیورسٹی میں ہونیوالی طبی تحقیق میں بڑا انکشاف کر دیاگیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکا کے معروف طبی ادارے مایو کلینک کا کہنا تھا کہ کھانے کے دوران یا اس کے بعد پانی پینے سے نظام ہاضمہ کے افعال متاثر نہیں ہوتے۔ درحقیقت کھانے کے دوران یا اس کے بعد پانی پینے سے جسم کو غذا کے ٹکڑے کرنے اور ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پانی اچھی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور اس کی مدد سیغذا کے ٹکڑے یا ریزے کرنا جسم کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ غذا کے ٹکڑے ہونے کے بعد جسم اس میں موجود غذائی اجزا کو جذب کرلیتا ہے۔

پانی قبض کی روک تھام بھی کرتا ہے اور مایو کلینک کے مطابق میٹھے مشروبات کی بجائے جس حد تک ممکن ہو پانی کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اسی حوالے سے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں بھی اس خیال کی سختی سے تردید کی گئی کہ کھانے کے دوران یا اس کے بعد پانی پینے سے کوئی نقصان ہوسکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کھانا ہضم کرنے کے عمل کا آغاز منہ سے ہوتا ہے جہاں غذا کو چبا کر نرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خوراک غذائی نالی سے معدے تک پہنچتی ہے جہاں تیزابی سیال میں اس کے ٹکڑے ہوتے ہیں اور وہ مکسچر چھوٹی آنت میں منتقل ہوتا ہے۔

اس مرحلے میں غذا میں موجود 75 فیصد غذائی اجزا جسم میں جذب ہوجاتے ہیں اور جو کچھ جذب نہیں ہوتا وہ بڑی آنت میں پہنچ کر جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ یہ پورا عمل 24 سے 72 گھنٹے میں مکمل ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا معدہ پانی کو بہت تیزی سے جذب کرلیتا ہے اور عموما یہ عمل 20 منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے۔ تو پانی سے معدے میں موجود تیزابی سیال متاثر ہونے کا امکان نہیں ہوتا، یہاں تک کہ معدہ پورا پانی سے بھی بھرا ہو تو بھی وہ کھانے کے ہضم ہونے کے عمل میں مداخلت نہیں کرتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button