انٹرنیشنل

اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کیلئے نیا حربہ استعمال کرنا شروع کر دیا

قیدیوں کو عمارتوں میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ اگر کوئی بم نصب ہو تو وہ صرف فلسطینی قیدیوں کو نقصان پہنچے اور ان کے اپنے فوجی محفوظ رہیں

امریکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کے لئے نیا حربہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کے لئے مزید مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حالیہ لڑائیوں کے دوران فلسطینی شہریوں کو مجبور کیا کہ وہ غزہ میں ممکنہ طور پر بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز مواد سے بھری عمارتوں میں داخل ہوں تاکہ اسرائیلی فوجی نقصان سے محفوظ رہیں۔ اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کے ایک فوجی اور 5 فلسطینی سابق قیدیوں نے انکشاف کیا کہ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک اسرائیلی فوجی نے بتایا کہ ان کے یونٹ میں 2 فلسطینی قیدیوں کو جان بوجھ کر اس مقصد کے لیے رکھا گیا تھا کہ انہیں خطرناک علاقوں میں بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو عمارتوں میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ اگر کوئی بم نصب ہو تو وہ صرف فلسطینی قیدیوں کو نقصان پہنچے اور ان کے اپنے فوجی محفوظ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل عام طور پر اسرائیلی یونٹوں میں پایا جاتا ہے اور اسے ماسکیٹو پروٹوکول (یعنی مچھر پروٹوکول) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ فوجی نے بتایا کہ ان کے یونٹ نے پہلے معیاری طریقہ کار اپنایا، مثلا کتے کو بھیجنا یا بکتر بند بلڈوزر کے ذریعے عمارت میں سوراخ کرنا لیکن اس سال ایک انٹیلی جنس افسر 16 سالہ اور 20 سالہ فلسطینی لڑکوں کو لایا اور انہیں فوجیوں کے آگے بھیجنے کو کہا۔

انٹیلی جنس اہلکار کا دعوی تھا کہ ان کا تعلق حماس سے ہے لیکن فوجی کو شک تھا کہ ان افراد کا دہشتگردی کی کسی سرگرمی سے تعلق نہیں۔ 5 سابق فلسطینی قیدیوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں خطرناک علاقوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا۔ 20 سالہ فلسطینی شہری محمد سعد نے بتایا کہ انہیں رفح کے قریب کھانا لینے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور 47 دن تک قید رکھا گیا، انہیں فوجی مشنز کے لیے استعمال کیا گیا جہاں انہیں فوجی وردی پہنائی گئی اور ایک کیمرہ دیا گیا، انہیں مختلف اشیا ہٹانے، فرنیچر کو ادھر ادھر کرنے اور ممکنہ سرنگوں کی تلاش کے لیے استعمال کیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button