افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے آرٹی فیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا
پاکستان میں اس وقت تقریباً 30لاکھ کے قریب افغانی موجود ہیں جن میں سے 15لاکھ کو رجسٹریشن کارڈ جبکہ 15لاکھ ابھی تک غیر قانونی طور پر مقیم ہیں

اسلام آباد(کھوج نیوز) افغان باشندوں کی نشاندہی کے لئے آرٹی فیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان میں موجود غیر قانونی طور پر رہنے والے افغانیوں کا پتہ چل جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پہلے سے ہی لاکھوں افغان باشندے موجود تھے اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے گزشتہ تین برسوں کے دوران مزید افغان پاکستان پہنچے ہیں۔ نئے آنے والوں کے پاس روزگار کی شدید کمی ہے اور انہیں شدید خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں پہلے سے موجود بیشتر افغان تجارت کرتے ہیں، تاہم زندگی کی بہت سی سہولیات سے وہ محروم بھی ہیں۔ بعض 40 سال تک رہنے کے بعد پاکستانی شہریت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریبا پندرہ لاکھ ایسے افغان رہائش پذیر ہیں، جنہیں پروف آف رجسٹریشن کارڈ دیا گیا ہے۔ تاہم تقریبا اتنی ہی تعداد میں افغان بغیر دستاویزات کے پاکستان میں مقیم ہیں، جن میں زیادہ تر خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں۔
اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے چھ سے آٹھ لاکھ افغانوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر ہجرت کر کے پاکستان میں پناہ لی ہے۔ دوسری جانب اکتوبر 2023 میں پاکستان نے سکیورٹی خدشات کے باعث غیر قانونی افغان باشندوں کو واپس اپنے ملک بھیجنا شروع کیا تھا، جس کے تحت 31 اکتوبر 2024 تک چار لاکھ 35 ہزار سے زیادہ افغانوں کو اپنے ملک بھیجا گیا۔
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان نے یہاں موجود رجسٹرڈ افغان باشندوں کے پی او آر کارڈ میں جون 2025 تک توسیع کی تھی، جو 30جون 2024کوختم ہو رہی تھی۔ اس طرح رجسٹرڈ افغانوں کی یہ مشکل کسی حد تک آسان ہو گئی۔ تاہم خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر شہروں میں رہائش پذیرافغان باشندوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئی، جہاں انہیں بعض سیکورٹی اداروں کی وجہ سے پریشانی ہے تو وہیں انہیں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات نہ ہو ہونے کے برابر ہیں۔



