یمنی فوج کی واپسی، سعودی عرب کا یو اے ای سے بڑا مطالبہ

سعودی عرب (مانیٹرنگ ڈیسک) یمنی فوج کی واپسی کے حوالے سے سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ا ی ) سے بڑا مطالبہ کر دیا ہے جس کے بعد دیگر ممالک میں بھی تھرتھرلی مچ گئی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یو اے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کرکارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے، یہ اقدام ہماری قومی سلامتی اورجمہوریہ یمن کے امن سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔
سعودی عرب نے صدریمنی صدارتی قیادت کونسل اور ان کی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہم یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن کے ساتھ جنوبی مسئلے کے تاریخی اور سماجی پہلو ہیں، مسئلے کا حل جامع سیاسی عمل کے تحت مذاکرات کی میز پر ممکن ہے، ایسے مذاکرات جس میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریق شامل ہوں، یو اے ای یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹے میں اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بندکرے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یمنی حکومت کی حمایت کے لیے عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے، قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑچھاڑ کو ریڈلائن سمجھا جائیگا، ہم کسی ایسے اقدام سے گریزنہیں کریں گے جو اس خطرے کے سدباب کے لیے ضروری ہو۔



