صحت

ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز، 10سی سی سرنج پر پابندی

اسلام آباد(کھوج نیوز) ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے 10 سی سی سرنج پر پابندی کو مولود کے علاج کے لیے خطرہ کیوں قرار دیا گیا ہے؟ تمام تر تفصیل سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرپرسن نٹاگ (نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ) پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد شفیع نے ڈریپ کے سی ای او کو ہنگامی طور پر خط لکھتے ہوئے بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کے تناظر میں 10 سی سی سرنج پر پابندی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی کو بچوں اور نومولود کے علاج کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 10 سی سی سرنج بچوں کو ادویات کی درست مقدار دینے کے لیے ضروری ہے۔ این آئی سی یو اور وارڈ میں 10 سی سی سرنج کا متبادل موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ10 سی سی سرنج پر پابندی سے نومولود بچوں کو غذائی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بغیر سوئی والی 10 سی سی سرنج بچوں کو مائع ادویات دینے کے لیے معمول کا طبی آلہ ہے۔ لہذا اس سلسلے میں شواہد پر مبنی اور ہدفی ریگولیٹری فیصلے کیے جائیں۔ 10 سی سی سرنج پر مکمل پابندی کے بجائے مخصوص استثنا دیا جائے۔ انہوں نے ڈریپ سے ماہرین پر مشتمل مشاورتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ انفیکشن کنٹرول کے اقدامات سے بچوں کا علاج متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ایچ آئی وی کی روک تھام ضروری، مگر علاج میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button