صحت

روزانہ 5گھنٹے سے کم سونے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اسلام آباد(ہیلتھ ڈیسک) روزانہ 5گھنٹے سے کم سونے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ نے سب کو حیران و دنگ کر کے رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ عہد میں اسمارٹ ڈیوائسز کے باعث لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ تو ناکافی نیند کے جسم پر مرتب اثرات کے بارے میں جان لیں۔

بیمار ہونا
نیند کی کمی کے باعث جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ زیادہ آسانی سے کسی بیماری کے شکار ہوجاتے ہیں۔نیند کی کمی کے باعث مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جس کا نتیجہ نزلہ زکام یا ایسی ہی عام بیماریوں سے زیادہ متاثر ہونے کی شکل میں نکلتا ہے۔

دل متاثر ہوتا ہے
نیند کا کم (5گھنٹے سے کم) اور طویل دورانیہ 9(یا اس سے زیادہ گھنٹے) دونوں دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر نیند کی کمی سے امراض قلب یا فالج کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔

کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے

نیند کی کمی سے بریسٹ کینسر، آنتوں اور مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے مگر اچھی خبر یہ ہے کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کو یقینی بناکر اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

دماغ کام نہیں کرتا

ایک رات کی خراب نیند سے بھی دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک رات کی نیند متاثر ہونے سے لوگوں کے لیے دماغی ٹاسک کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یادداشت، فیصلہ سازی، منطق اور مسائل حل کرنے جیسی صلاحیتیں نیند کی کمی سے متاثر ہوتی ہیں۔

بھلکڑ بن جاتے ہیں

نیند کی کمی سے نہ صرف آپ چیزیں یا باتیں بھولنے لگتے ہیں بلکہ اس سے کچھ نیا سیکھنے اور یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طبی تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ نیند یادداشت کو منظم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے جس کے بغیر دماغ کے لیے نئی تفصیلات کو یادداشت میں محفوظ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

جسمانی وزن میں اضافہ

نیند کی کمی موٹاپے کا شکار بھی بناسکتی ہے۔ 21 ہزار سے زیادہ افراد پر ہونے و الی ایک تحقیق میں نیند اور جسمانی وزن کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔ 3 سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ 5 گھنٹے سونے کے عادی افراد کا وزن اس عرصے میں نمایاں حد تک بڑھ گیا۔ اس کے مقابلے 7 سے 8 گھنٹے کی نیند جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

جسمانی وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ نیند کی کمی کے شکار افراد میں ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم نیند کے نتیجے میں انسولین کی مزاحمت بڑھتی ہے جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ٹریفک حادثات کا سامنا

6 گھنٹے سے کم نیند کے عادی افراد کے لیے ٹریفک حادثات کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ امریکا کے نیشنل سلیپ فانڈیشن نے تو لوگوں کو کہا ہے کہ اگر ان کی نیند پوری نہیں ہوتی تو ڈرائیونگ کرنے سے پہلے 2 بار سوچیں۔

جلدی مسائل کا سامنا

اگر طبی مسائل بھی آپ کو زیادہ نیند کے لیے قائل نہیں کرسکتے تو ایسا اپنی شخصیت کے لیے کریں۔ 30 سے 50 سال کی عمر کے افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی سے چہرے پر جھریاں ابھرنے کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ جلد رنگت بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ اور ہاں اس عادت کے باعث جلد ڈھیلی ہوکر لٹکنے بھی لگتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button