آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو کتنے لاکھ ڈالر کی ادائیگی کر رہے ہیں؟

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرنے کے لئے بحری جہاز ایران کو کتنے لاکھ ڈالر کی ادائیگی کر رہے ہیں؟ اس حوالے سے انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ نے سب کو چونکا دیا۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جو جہاز اس راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ان کا تعلق زیادہ تر چین، بھارت یا خلیجی ممالک سے تھا، جبکہ بعض ڈارک فلیٹ کے جہاز بھی شامل تھے جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔ میڈیا کے مطابق بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے ایران کو 20لاکھ ڈالر تک ادا کیے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاؤالدین بروجردی نے بھی بتایا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والا ہر جہاز 20 لاکھ ڈالر فیس ادا کر رہا ہے۔
ایک رسک اینڈ کرائسس منیجمنٹ کمپنی کے مشیر مارٹن کیلی نے بتایا کہ جہازوں کو ملنے والی منظوری کا عمل متعلقہ ممالک میں موجود سفارت خانوں کے ذریعے حکومت سے حکومت کے درمیان مذاکرات پر مشتمل ہوتا ہے جس کے بعد جہاز کو ایک کوڈ دیا جاتا ہے جسے وہ آبنائے ہرمز کے قریب پہنچتے وقت بین الاقوامی ہنگامی ریڈیو فریکوئنسی VHF 16 پر نشر کرتا ہے۔ اس دوران ایرانی حکام جہاز کے کاغذات، کارگو کی منزل اور عملے کی قومیت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد گزرنے والے کسی بھی جہاز کا کارگو امریکا یا یورپ کے لیے نہیں تھا بلکہ زیادہ تر جہاز مشرقی ایشیا، جبکہ کچھ مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کی طرف گئے۔ جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے روایتی شپنگ لینز کی جگہ ایرانی سمندری حدود کا استعمال کیا۔
میڈیا نے دو پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض تیسرے ممالک کے جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاکستانی پرچم استعمال کر رہے ہیں۔ ایک سفارتکار نے کہا کہ بہت سی شپنگ کمپنیاں اپنا جھنڈا تبدیل کر کے پاکستانی رجسٹریشن کے تحت سفر کر رہی ہیں جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ یہ اقدامات ٹرمپ کے لیے ایک خیرسگالی پیغام ہیں۔ میڈیا کے مطابق جہازوں کے لیے ایران کو 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی بھی ایک چیلنج ہے کیونکہ ایران اور پاسدارانِ انقلاب پر امریکا، یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں تاہم امریکی محکمہ خزانہ کے سابق عہدیدار کلیئر میک کلیسکی کے مطابق ایران نے خفیہ ادائیگی کے نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں۔



