بھارت کی خطے میں مہم جوئی، اصل ہدف کچھ اور؟ امریکہ کا سخت ردعمل
بھارت نے کراچی کی بندرگاہوں اور گلگت بلتستان میں اپنی مشکوک کارروائیوں کو مکمل کر لیا ہے

لاہور(کھوج نیوز)خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے ک بھارت نے کراچی کی بندرگاہوں اور گلگت بلتستان میں اپنی مشکوک کارروائیوں کو مکمل کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد پاکستانی فوج کو شمال اور جنوب میں مصروف رکھ کر اصل نشانہ یعنی بہاولپور اور مریدکے جیسے اہم شہروں پر حملہ کرنا ہے۔
بھارتی منصوبہ بندی میں کراچی اور گلگت بلتستان کا انتخاب ایک سوچے سمجھے ڈائورشن پلان کے تحت کیا گیا ہے۔ کراچی، جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے، وہاں سرگرمیاں معیشت کو دبا ؤمیں لانے کا حربہ ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب گلگت بلتستان نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے ایک حساس مقام ہے بلکہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک کلیدی مرکز بھی ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی پیدا کر کے بھارت عالمی توجہ یہاں مرکوز کروا رہا ہے، تاکہ پاک فوج کا ردعمل اسی طرف مرکوز رہے۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ اصل نشانہ بہاولپور اور مریدکے جیسے شہر ہیں۔ بہاولپور جنوبی پنجاب کا ایک نہایت اہم اور حساس شہر ہے جہاں پاکستان آرمی کی ایک بڑی کور تعینات ہے، جسے "بہاولپور کور” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی قربت بھارتی سرحد سے اور اہم عسکری تنصیبات کی موجودگی اسے ایک اسٹریٹجک ہدف بناتی ہے۔ جبکہ مریدکے، جو کہ پنجاب کے وسطی علاقے میں واقع ہے اور لاہور کے قریب ہے، ممکنہ طور پر ایک علامتی اور نفسیاتی ہدف کے طور پر چنا گیا ہے۔ اس کی اہم سڑکوں اور مواصلاتی رسائی کے باعث وہاں کسی بھی حملے کا مقصد انتشار پھیلانا اور ردعمل کو مشکل بنانا ہو سکتا ہے۔
ان کارروائیوں پر امریکہ کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام نے جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ بعض امریکی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بھارت کی یہ پیش قدمی پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ بنی تو امریکہ اپنے اتحادی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان کے عسکری و سفارتی حلقے اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ موجودہ منظرنامہ ایک بڑے بحران کی پیش گوئی کر رہا ہے، اور اگر عالمی برادری نے بروقت مداخلت نہ کی تو جنوبی ایشیا ایک نئے اور خطرناک محاذ کی طرف بڑھ سکتاہے۔



