یو اے ای کا اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان

متحدہ عرب امارا ت(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد عالمی توانائی نظام میں کیا تبدیلی ہوگی؟
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ پیداوار کے کوٹے پر طویل عرصے سے جاری تنازع ہے، گزشتہ ایک دہائی میں یو اے ای نے ADNOC کے ذریعے اپ اسٹریم انفراسٹرکچر میں 150 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس سے اس کی زیادہ سے زیادہ پائیدار پیداوار کی صلاحیت تقریبا 5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تاہم اوپیک پلس کے تحت اسے عموما تقریبا 3.2 ملین بیرل یومیہ تک محدود رکھا گیا، جس کے باعث تقریبا 1.8 ملین بیرل یومیہ صلاحیت غیر استعمال شدہ رہی، یعنی کل ممکنہ پیداوار کا تقریبا 40 فیصد۔ عالمی توانائی منتقلی کے تناظر میں، جہاں مستقبل میں تیل کی طلب کم ہونے کا امکان ہے، اس غیر استعمال شدہ صلاحیت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
یو اے ای کے فیصلے میں ایک اہم اسٹریٹیجک عنصر اس کی متبادل برآمدی صلاحیت ہے، حبشان فجیرہ پائپ لائن، جس کی گنجائش تقریبا 1.5 ملین بیرل یومیہ ہے، تیل کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست خلیج عمان تک پہنچانے کی سہولت دیتی ہے۔ اس انفراسٹرکچر کی بدولت یو اے ای سمندری رکاوٹوں کے باوجود بھی اپنی برآمدات جاری رکھ سکتا ہے، جو اسے کارٹل سے آزاد حیثیت میں مضبوط بناتا ہے، یو اے ای کی وسیع تر معاشی تبدیلی بھی اس فیصلے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ فیصلہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے بھی جڑا ہوا ہے، آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا اور اندازوں کے مطابق ایک وقت میں روزانہ 10 ملین بیرل تک برآمدات متاثر ہوئیں، یو اے ای کو خلیجی انفراسٹرکچر پر حملوں اور علاقائی تنازعات کے باعث اضافی دباؤکا سامنا بھی رہا، جس سے اوپیک پلس کے اندر اعتماد مزید کمزور ہوا۔



