صحت

جگر کا کینسر کیسے پھیلتا ہے؟ اہم وجہ سامنے آگئی

جرمنی (مانیٹرنگ ڈیسک) جگر کے کینسر جیسا جان لیوا مرض کیسے پھیلتا ہے؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ اس حوالے سے جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع ہونیوالی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آگیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل جاما نیٹ ورک میں شائع تحقیق میں 15 لاکھ سے زائد افراد کے غذائی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا 11 تحقیقی رپورٹس سے حاصل کیا گیا تھا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ چینی پر مبنی یا مصنوعی مٹھاس پر مبنی مشروبات سے جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے یا نہیں۔ ان افراد سے سوالناموں کے ذریعے غذاؤں کے استعمال کی تفصیلات حاصل کی گئیں اور پھر 18 سال کے عرصے میں کینسر کیسز کی تعداد کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جگر کے کینسر کی 2 اہم اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مصنوعی مٹھاس پر مبنی مشروبات کے استعمال سے جگر کے کینسر کے خطرے میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔

محققین نے تسلیم کیا کہ فی الحال تحقیق کے نتائج محدود ہیں کیونکہ ان میں یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ میٹھے مشروبات براہ راست جگر کے کینسر کا باعث بنتے ہیں مگر انہوں نے بتایا کہ نتائج سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے جن میں میٹھے مشروبات کے استعمال کو طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہماری غذائی عادات اس حوالے سے اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔

محققین کے مطابق جگر پر چربی چڑھنے کا عارضہ بنیادی طور پر دائمی ورم کا باعث بنتا ہے جبکہ اس عضو کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیشتر مریضوں میں یہ عارضہ بگڑ کر جگر کے کینسر کی شکل اختیار کرلیتا ہے یا جگر کے افعال مکمل طور پر فیل ہو جاتے ہیں جس کے بعد ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ہمارے جسم میں ایسا میکنزم ہوتا ہے جو جگر کو کینسر سے تحفظ فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اسے ماہرین نے cellular senescence کا نام دیا ہے اور یہ میکنزم متاثرہ خلیات کو تقسیم ہونے سے روکتا ہے تاکہ کینسر کی روک تھام ہوسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button