کھیل

ٹرمپ کی مداخلت، امریکی فٹبالر کی پابندی معطل، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

امریکا (سپورٹس ڈیسک) فیفا کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت کے بعد امریکی فٹبالر کی ریڈکارڈ پابندی سال بھر کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کو سرخ لکیر عبور کرنا قرار دے دیا

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق یوئیفا نے فیفا کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ میں ریڈ کارڈ کے بعد کم از کم ایک میچ کی خودکار معطلی کوئی اختیاری سزا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے نفاذ کے لیے کسی مجاز ادارے کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ایک بنیادی اصول ہے جو ضوابط میں واضح طور پر درج ہے، جس میں کسی قسم کی رعایت کی گنجائش نہیں۔ یوئیفا کا کہنا ہے کہ فیفا کا سزا معطلی کا یہ غیر معمولی، ناقابلِ فہم اور بلاجواز فیصلہ شدید حیرت اور تشویش کا باعث ہے، ٹورنامنٹ کے دوران مداخلت کرکے بالوگن پر پابندی ختم کرنیکا فیصلہ ایک ایسی سرخ لکیر عبور کرگیا ہے جسے نہیں عبور کرنا چاہیے تھا۔

یوئیفا کے مطابق جب قوانین کی عملداری کی ضمانت دینے والے ادارے ہی اس کی حفاظت نہ کریں تو کھیل کی دیانت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، ایسا فیصلہ ایک مثال قائم کر دیتا ہے، جس کے بعد اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں بھی یکساں سلوک کرنا پڑیگا، جو کھیل کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے ایکس پر لکھا کہ فٹ بال کو کبھی بھی سیاسی طاقت کے کھیل کا میدان نہیں بننا چاہیے، ریڈ کارڈ سیاسی فون کالوں سے ختم نہیں ہوتے بلکہ قوانین، شواہد اور آزاد عدالتی اداروں کی بنیاد پر ختم کیے جاتے ہیں۔ اگر ایک امریکی صدر فیفا کے صدر سے رابطہ کرے اور اس کے بعد ایک کھلاڑی کو ناک آؤٹ میچ سے پہلے کلیئر کر دیا جائے تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، فیفا، تم کہاں جا رہے ہو؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button