خون کا بہائو بہتر بنانے والی کون سی غذائیں ہیں؟ تحقیق آگئی

اسلام آباد(ہیلتھ ڈیسک) خون ہمارے جسم میں سپر ہائی وے کی طرح کام کرتا ہے، خون کا بہائو بہتر بنانے والی کون سی غذائیں ہیں؟ اس حوالے سے تحقیق سامنے آگئی ہے جو حیران کن ہے۔
تفصیلات کے مطابق خون کے ذریعے اہم غذائی اجزا اور آکسیجن سمیت سب کچھ دل اور دماغ سے مسلز اور جِلد تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اچھی صحت کے لیے خون کا درست بہا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے جسم کے اندر 60 ہزار میل تک خون کی شریانوں کا نظام پھیلا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر حصے تک خون پہنچتا ہے۔
تمباکو نوشی، ورزش نہ کرنے، پانی کم پینے یا زیادہ جسمانی وزن سے خون کے بہا پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خون کا بہاؤ متاثر ہونے سے ہاتھ یا پیر ٹھنڈے ہونے یا سن ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے جبکہ ٹانگوں میں نیلی رنگت کی جھلک نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح جِلد خشک ہو جاتی ہے، ناخن بھربھرے ہو جاتے ہیں جبکہ بال جھڑنے لگتے ہیں۔ اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو خراشوں یا زخموں کے بھرنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چند عام غذاؤں کا استعمال عادت بنانے سے جسم میں خون کی گردش کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
سرخ مرچیں
سرخ مرچوں کا ذائقہ بنیادی طور پر ایک phytochemical کیمیکل کیسپیئن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیسپیئن بلڈ پریشر کو کم کرکے ٹشوز میں خون کے بہا کو بہتر بناتا ہے جبکہ نائٹرک آکسائیڈ اور دیگر مرکبات کے اخراج کا عمل متحرک کرتا ہے جن سے خون کی شریانوں کو پھیلنے میں مدد ملتی ہے۔
انار
انار بہت مزیدار پھل ہے جس میں پولی فینولز اینٹی آکسائیڈنٹس اور نائٹریٹ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انار کو کھانے یا اس کے جوس کو پینے سے خون کا بہا اور مسلز کے ٹشوز میں آکسیجن کی فراہمی بہتر ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ورزش کرنے سے قبل 500 ملی گرام انار کا جوس پینے سے پٹھوں کی سوجن، ورم اور مسلز کو پہنچنے والے نقصان میں کمی آتی ہے۔
پیاز
پیاز فلیونوئڈز آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جس سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اینٹی آکسائیڈنٹس دل کی شریانوں اور رگوں میں خون کے بہا کو بہتر بناتے ہیں۔ پیاز ورم کش بھی ہوتے ہیں جس سے بھی خون کا بہا اور دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔
دار چینی
دار چینی کے استعمال سے صحت کو متعدد فوائد ہوتے ہیں جن میں خون کا بہتر بہا بھی شامل ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دار چینی کو استعمال کرنے والے افراد کے ہائی بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے۔
لہسن
لہسن بھی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے خاص طور پر اس میں موجود سلفر مرکبات سے ٹشوز میں خون کا بہا بڑھتا ہے جبکہ بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے جس سے شریانیں کشادہ ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق میں دل کی شریانوں کے امراض کے شکار افراد کو شامل کیا گیا اور دریافت ہوا کہ 3 ماہ تک لہسن کے پاڈر کے استعمال سے ان کے خون کے بہا میں 50 فیصد تک بہتری آئی۔
مچھلی
مچھلی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ایسی چکنائی ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کو بہتر بنانے کے لیے بہت مفید ہوتی ہے کیونکہ ان کے استعمال سے نائٹرک آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔ نائٹرک آکسائیڈ سے دل کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں جبکہ خون کا بہاؤ بڑھتا ہے۔ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز خون میں پلیٹلیٹس کے اجتماع کو برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 2 سے 3 گرام اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا استعمال بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے۔
چقندر
چقندر نائٹریٹ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جسے ہمارا جسم نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ نائٹرک آکسائیڈ سے خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں جبکہ مسلز کے ٹشوز کے لیے خون کا بہا بڑھتا ہے۔
ہلدی
ہلدی کے استعمال سے بھی خون کے بہا کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی میں موجود مرکبات خون کی شریانوں اور خون کے بہا کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ نائٹریٹ سے بھرپور ہوتی ہیں جس کو ہمارا جسم نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ جو افراد نائٹریٹ سے بھرپور سبزیاں جیسے پالک کھاتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔
ترش پھل
ترش پھل جیسے مالٹے اور گریپ فروٹ اینٹی اکسائیڈنٹس بشمول فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ فلیونوئڈز سے بھرپور پھلوں کے استعمال سے بلڈ پریشر اور شریانوں کی اکڑن میں کمی آتی ہے جس سے خون کا بہا بہتر ہوتا ہے۔



