انٹرنیشنل

امریکا ایران جنگ، سینئر مشیروں نے ٹرمپ کو خبردار کر دیا

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان چلنے والی جنگ کے حوالے سے سینئر مشیروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کر دیا ہے جس کے بعد نئی ہلچل مچ گئی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے بتایا کہ اوول آفس اور سچویشن روم میں ہونے والی بریفنگز کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اس خدشے پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ ایران امریکی ناکہ بندی اور دیگر فوجی حربوں کے خلاف اپنی مزاحمت طویل عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق یہ تنازع ممکنہ طور پر جنوری 2029 میں نئے صدر کی حلف برداری تک جاری رہ سکتا ہے۔حکام کا ماننا ہے کہ کئی سالوں پر محیط یہ جنگ نہ صرف امریکی فوجی وسائل پر شدید دبا ڈالے گی بلکہ عالمی تیل کی منڈیوں میں طویل مدتی بحران کا خطرہ بھی پیدا کر دے گی۔ امریکی اخبار کے مطابق جے ڈی وینس اور مارکو روبیو دونوں کو آئندہ صدارتی الیکشن کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم دونوں نے تاحال الیکشن لڑنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سینئر امریکی معاونین کا یہ اعتراف ٹرمپ کے ان دعوں کی نفی کرتا ہے جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا نے ایرانی افواج کو شکست دے دی ہے اور ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا۔ اس تنازع کے طول پکڑنے کے پیش نظر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صدر ٹرمپ کو فوجی آپشنز فراہم کرنے کے لیے مشرق وسطی میں بعض فوجیوں کی تعیناتی میں 2027 تک توسیع کر دی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فورا بعد یہ جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ ایران مزید مزاحمت نہیں کرسکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button