ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانیوالے 3نوجوان اغوائ، تشدد کی اتنہاء کر دی، بازیابی کیلئے کروڑوں کا مطالبہ، گھروں میں کہرام برپا

لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور کے سرحدی علاقے بھیسین کے قریبی گائوں ”کھارا کھو” کے 3نوجوانوں کو ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے کا شوق لے ڈوبا، ایران پہنچتے ہی اغوا کاروں کے ہتھے چڑھ گئے، مغویوں پر وحشیانہ تشدد، بازیابی کیلئے کروڑوں روپے کا مطالبہ، والدین پر غشی کے دورے ، گھروں میں کہرام برپا، اہلخانہ کی حکومت سے مدد کی اپیل۔
تفصیلات کے مطابق اٹلی ڈنکی کے ذریعے جانے والے 12نوجوانوں میں سے 7نوجوان کا تعلق لاہور کے سرحدی علاقے بھیسین کے نواحی گائوں ”کھارا کھو” سے ہے جن میں سے ایک ہی خاندان کے 3کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص ایران پہنچتے ہی اغواء ہو گئے ہیں ۔ مغویوں کے اہلخانہ نے ”کھوج نیوز” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گائوں کے رہائشی ایجنٹ عامر ہمارے معصوم لڑکوں کو نوٹوں کی چمک اور راتوں رات امیر بننے کا لالچ دے کر ڈنکی کے ذریعے بیرون ملک جانے کا جھانسہ دے کر راتوں رات چوری سے اپنے ساتھ لے گیا تھا اور اس نے لڑکوں کو سختی سے منع کیا تھا کہ جب تک میں نہ کہوں کوئی بھی اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کرے گا۔ اہلخانہ نے بتایا کہ ایجنٹ عامر خود بھی آج سے 12سال قبل ڈنکی کے ذریعے ہی یونان گیا تھا جو 4ماہ قبل واپس اپنے گھر آیا تھا اس نے واپس آتے ہی ناصرف اپنا نیا گھر بنوایا بلکہ شادی بھی دھوم دھام سے کی اور روزانہ کی بنیاد پر رینٹ پر لی گئی نئی سے نئی گاڑیاں سے بھی استعمال کرتارہا تا کہ گائوں میں اس کی ٹھاٹھ باٹھ بنی رہے۔
اہلخانہ کا مزید کہنا تھا کہ لڑکوں کو بیرون ملک لے جانے کے لئے ایجنٹ مافیا کو فی کس 6لاکھ روپے دینا تھے اور جیسے ہی لڑکے کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے تو اس ایجنٹ مافیا نے ہمارے لڑکوں سے رابطہ کروایا تو ان کا کہنا تھا کہ 2، 2لاکھ روپے اس کو بھیج دیں جب ہم ایران پہنچ جائیں گے تو 6لاکھ روپے فی کس کے حساب سے باقی رقم بھی ادا کر دینا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لڑکے ایران پہنچے تو ایجنٹ عامر نے 6لاکھ روپے لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے 10لاکھ روپے فی کس لینے کا مطالبہ کر دیا جس کے بعد ہم نے اس کو تمام رقم بھیج دی لیکن 10لاکھ روپے دینے کے باوجود ہمارے 3نوجوان لڑکوں کو اغوا کر لیا گیا اور اگلے ہی دن وقاص کے موبائل سے دل دہلا دینے والی فوٹیج بھیجی گئیں جس میں نوجوانوں کے گلے میں ناصرف زنجیریں باندھی گئی بلکہ ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور ساتھ ہی نوجوان رو رو کر اپنے گھر والوں سے رقم بھیجنے کی استدعا بھی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بچائو لو نہیں تو یہ ہمیں مار دیں گے۔ اہل خانہ کے مطابق ان اغواء کاروں نے پہلے دس دس لاکھ رقم ڈیمانڈکی جو بھیج دی گئی اور اب یہ ہر بندے کے لیے مزید6 ہزار ڈالر کی ڈیمانڈ کرتے ہوئے ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر رقم نہ ملی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے ،مغوی نوجوانوں کے خاندان نے حکومت سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لڑکوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے۔

لاہور(کرائم رپورٹر) ایران میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ایف آئی اے لنک آفس ایران کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ایران میں لاپتہ ہونے والے پاکستانیوں میں سے 2 پاکستانی شہری بحفاظت پاکستانی سفارتخانہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ان نوجوانوں کے نام طلحہ اور شہزاد ہیں، اور ان کا تعلق لاہور کے سرحدی علاقے بھیسین سے ہے۔دونوں شہریوں نے بروقت معاونت اور مسلسل کوششوں پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، ایف آئی اے لنک آفس ایران اور دیگر متعلقہ ایف آئی اے حکام کا دلی شکریہ ادا کیا۔




