عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت کو بڑی دھمکی

خیبرپختونخوا (کھوج نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو بڑی خطرناک نتائج کی دھمکی لگا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وزیراعلی سہیل آفریدی نے بتایا ہے کہ وفاق نے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا تقاضہ کیا تھا، ایف بی آرکا 15،260 ارب روپے کا ہدف حاصل ہونے پر خیبرپختونخوا کا حصہ 175 ارب روپے بنتا تھا، اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔
وزیراعلی کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائرکرچکے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی، وفاق کو غیرمنظور شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر یکطرفہ رقم منہا کرنیکا اختیار نہیں، خیبرپختونخوا حکومت آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہرقانونی، آئینی راستہ اختیار کریگی، خیبرپختونخوا حکومت اپنے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کریگی۔
سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر اضافی رقم کی مفاہمتی یادداشت پردستخط نہیں کیے، مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم شامل نہیں کی گئی۔ وزیراعلی سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ضم اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں جائز حصہ دینا بھی ہماری شرط تھی، ضم اضلاع کا حصہ دینے کی شرط وفاق نے تسلیم کیں اور این ای سی کی کارروائی کا حصہ بنا یا، 6 ماہ میں حصہ نہ ملنے پر7 ویں این ایف سی کے تحت سمری اور آرڈیننس کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں، صوبے کے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے، آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا، کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق مشیرخزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل کے پی کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، صوبے کی رضامندی کے بغیر کٹوتی نہ کرنیکی تحریری ہدایات جاری کی گئیں، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیرکوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنیکی ہدایت کی۔ سہیل آفریدی کے مطابق5 اگست کو وزارت خزانہ نے خیبرپختونخوا کو واجب الادا 6.4 ارب روپے کی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی،خیبرپختونخوا حکومت نے6.4 ارب روپے کی مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی نہ اتفاق کیا، محکمہ خزانہ نے13 اگست کے خط میں مجوزہ کٹوتی پر عدم رضامندی واضح کردی۔



