صحت

رات گئے تک جاگنے کی عادت سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) رات گئے تک جاگنے کی عادت سے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے امریکا میں ہونے والی طبی تحقیق میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکا کی بریگھم ینگ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں انزائٹی کی سطح نمایاں حد تک زیادہ ہوتی ہے جبکہ رات کو تنہائی کا احساس اس دماغی مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ اس تحقیق میں 442 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی نیند کی عادات کی تفصیلات سوالنامے کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات گئے تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کے عادی افراد سماجی طور پر زیادہ گھلتے ملتے نہیں۔ محققین نے بتایا کہ رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد اکثر ناقص دماغی صحت کو رپورٹ کرتے ہیں جبکہ ان میں رات کو تنہائی کا احساس بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ انزائٹی کی سطح بھی بڑھتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ دن اور رات کے وقت کا سماجی تجربہ دماغی صحت کے حوالے سے اہم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنہائی کے مسئلے پر قابو پانے سے انزائٹی کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اس سے قبل مارچ 2025 میں جرنل PLOS One میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے محققین نے یونیورسٹی کے 546 طالبعلموں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جو آن لائن سوالناموں کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔ تحقیق کے دوران ان طالبعلموں سے نیند کی عادات، منفی خیالات کے غلبے، ڈپریشن اور انزائٹی کی سطح کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسا نیند کے ناقص معیار، دیر تک جاگنے کے دوران ناقص غذاں کے استعمال اور منفی خیالات کے غلبے کی وجہ سے ہوتا ہے۔تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ اس میں وجہ ثابت نہیں کی جاسکی۔ اسی طرح جون 2024 میں امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد میں دماغی صحت کے مسائل سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر آپ دیر تک جاگنے کے عادی ہیں تو دماغی اور رویوں سے متعلق امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے، چاہے آپ 7 سے 8 گھنٹوں تک سونے کے عادی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس تحقیق میں 74 ہزار کے قریب درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 19 ہزار صبح جلد جاگنے کے عادی تھے، 6800 رات گئے تک جاگنا پسند کرتے تھے جبکہ باقی ان دونوں انتہاں کے درمیان کہیں موجود تھے۔ ان افراد کی نیند پر نظر رکھنے کے لیے 7 دن تک ایکٹیوٹی مانیٹر پہنائے گئے۔

ان کے سونے کے ترجیحی وقت کے اثرات کا موازنہ نیند کے دورانیے اور دماغی صحت سے کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دیر تک جاگنے کے عادی افراد میں دماغی امراض جیسے ڈپریشن اور انزائٹی سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ درحقیقت رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد میں ڈپریشن یا انزائٹی کی تشخیص کا خطرہ صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں 20 سے 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات کو جلد سونے اور صبح جلد جاگنے والے افراد کی دماغی صحت دیگر کے مقابلے میں بہترین ہوتی ہے، تاہم اگر وہ کسی وجہ سے دیر تک جاگنے پر مجبور ہو جائیں تو پھر ان کی دماغی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ دیر تک جاگنے کی عادت دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر اس کی وجہ واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر رات گئے تک جاگنے والے اکثر افراد تمباکو نوشی اور زیادہ کھانے کے عادی ہوتے ہیں جس سے جسم کے ساتھ دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button