انٹرنیشنل

امریکا سعودی عرب سول جوہری معاہدہ، نیتن یاہو کی خاموشی، اسرائیلی اپوزیشن پھٹ پڑی

اسرائیل (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا سعودی عرب ممکنہ سول جوہری معاہدے پر نیتن یاہو کی خاموشی پر اسرائیلی اپوزیشن پھٹ پڑی اور معاہدے کو اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک تباہی قرار دے دیا۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بالآخر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی طرف چلا جائیگا، اسرائیل کو اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کرنی چاہیے،کیونکہ اگر یہ معاہدہ ہوگیا تو مشرق وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔ لائبرمین کا کہنا تھا کہ امریکا سعودی عرب جوہری معاہدہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے، ہر فوجی جوہری پروگرام کا آغاز ایک سول جوہری پروگرام سے ہوتا ہے جس کی مثال ایران ہے۔ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ لائبرمین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر سعودی عرب میں جوہری تنصیبات قائم ہوئیں تو وہ ایران کے ممکنہ حملوں کا ہدف بھی بن سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاہدیکی مخالفت کرے اور امریکی کانگریس کو اسے مسترد کرنے پر آمادہ کرے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button