ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟ اہم وجہ سامنے آگئی

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں جان لیوا بیماری ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟ اس حوالے سے امریکن جرنل آف پرینیٹیو میڈیسن میں چونکا دینے والی تفصیل سامنے آگئی۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکن جرنل آف پرینیٹیو میڈیسن میں شائع تحقیق میں دریافت ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے اور اب نئی تحقیق میں ان کا ایک اور نقصان سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق میں 2019 میں کینیڈا میں امراض قلب کے ہزاروں کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی اور دیکھا گیا کہ مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر امراض قلب کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔ تحقیق میں دریافت ہوا کہ 23 سے 38 فیصد امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز میں الٹرا پراسیس غذاں نے کردار ادا کیا۔
محققین نے بتایا کہ الٹرا پراسیس غذاں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد کمی لانے سے ہر سال امراض قلب کے لاکھوں کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاں کے استعمال میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیے۔ واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں میں نمک کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح ان غذاؤں میں چینی، چکنائی، ٹرانس فیٹ، کیلوریز اور پراسیس اجزا کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے جو جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔



