آدھے سر کے درد سے کیا ہوتا ہے؟ طبی تحقیق سامنے آگئی

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) آدھے سر کے درد سے کیا ہوتا ہے ؟ اس حوالے سے جرنل برین کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی طبی تحقیق میں حیران کن انکشافات کر دیئے گئے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل برین کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مائیگرین سے دماغی عمر بڑھنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور دماغ میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو لمبے عرصے تک برقرار رہتی ہیں۔ اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں مائیگرین اور دماغی تنزلی کے درمیان ایک تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔ اس نئی تحقیق میں دیکھا گیا کہ آدھے سر کے درد سے دماغی عمر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، یعنی جسمانی عمر سے ہٹ کر ان کے دماغ کی عمر کیا ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں مائیگرین کے 110 مریض اور 70 ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو آدھے سر کے درد کا سامنا نہیں تھا۔
ان افراد کے ایم آر آئی اسکینز کیے گئے اور ان کے 400 سے زائد دماغی خطوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد ایک کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے ان افراد کی دماغی عمر کا تخمینہ لگایا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مائیگرین کے مریضوں کے جسم اور دماغ کی عمر میں اوسطا 4.24 سال کا فرق ہوتا ہے جو کہ دوسرے گروپ کے افراد میں نظر نہیں آیا۔ مائیگرین کے دائمی مریضوں (ایسے افراد جن کو ہر ماہ 15 دن یا اس سے زائد وقت تک سر درد کا سامنا ہوتا ہے) میں یہ فرق زیادہ ہوتا ہے۔ 442 دماغی خطوں کے تجزیے کے دوران 66 خطوں میں عمر تیزی سے بڑھنے کی علامات کو دریافت کیا گیا۔



