صحت

دو سال تک بچوں کو چینی سے کیوں دور رکھنا چاہیے؟

اسلام آباد (ہیلتھ ڈیسک) دو سال تک بچوں کو چینی سے کیوں دور رکھنا چاہیے؟ اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے ایسی حیران کن تحقیق سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد جنہیں ماں کے حمل کے دوران اور پیدائش کے بعد ابتدائی دو برسوں میں بہت کم چینی ملی، ان میں بعد کی زندگی میں ڈیمنشیا کا خطرہ 23 فی صد کم دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ چینی کا استعمال پہلے ہی ٹائپ ٹو ذیابیطس سے منسلک سمجھا جاتا ہے، جو خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے تاہم، نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چینی کی مقدار پر قابو پانا صرف بڑوں ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے بھی طویل المدتی دماغی صحت کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیاژین ژینگ، جو چین کی ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی مرحلے میں چینی کا استعمال محدود رکھنے سے دماغی صحت پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم اس تعلق کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button