دنیا بھر میں کتنے افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہو چکے ہیں؟ تشویشناک رپورٹ آگئی

لاہور (ہیلتھ ڈیسک) دنیا بھر میں کتنے افراد بھنگ اور چرس کے عادی ہو چکے ہیں؟ اس حوالے سے وال اسٹریٹ جنرل کی تشویشناک رپورٹ سامنے آنے کے بعد سب ہکا بکا رہ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں بھنگ میں نشہ دینے والے کیمیکل (Tetrahydrocannabinol) THC کی مقدار 3 سے 5 فیصد تھی لیکن اب بعض مصنوعات میں یہ 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے صحت کے سنگین خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی اضافے نے ذہنی دباو، گھبراہٹ اور ایمرجنسی کیسز میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر کھانے والی بھنگ میں نشے کی مقدار کا اندازہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے لوگ غلطی سے زیادہ لے کر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیںاور ایسا لگتا ہے جیسے وہ مر رہے ہوں۔
قلبی امراض کے حوالے سے جریدہ ہرٹ کے مطابق بھنگ استعمال کرنے والوں میں دل کے دورے کا خطرہ 29 فیصد، فالج کا خطرہ 20 فیصد جبکہ قلبی اموات کا خطرہ 2گنا سے زائد پایا گیا، محققین نے اسے تمباکو کی طرح خطرناک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ امریکن کالج آف سرجنز (2025) کی تحقیق کے مطابق حادثات میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیوروں میں سے 41.9 فیصد کے خون میں THC موجود تھا، جو قانونی حد سے کئی گنا زیادہ تھا۔ تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھنگ بعض افراد میں اضطراب کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے، 53فیصد مطالعات میں اضطراب کے بگڑنے اور 41فیصد میں ڈپریشن کے بڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق بھنگ کا تعلق ذہنی صحت کے مسائل سے واضح طور پر جڑا ہوا ہے، جاما انٹرنل میڈیسن اور دیگر مطالعات کے مطابق اس کا استعمال اضطراب اور ڈپریشن کو بعض صورتوں میں بڑھا سکتا ہیجبکہ کچھ افراد میں یہ علامات کو مزید شدید بنا دیتا ہے، خاص طور پر زیادہ طاقتور THC والے مواد میں یہ اثر زیادہ نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ بھنگ استعمال کرنے والے افراد میں تقریبا 20 سے 30 فیصد افراد Cannabis Use Disorder (CUD) کا شکار ہو سکتے ہیں،یعنی یہ ایک نشے کی بیماری ہے جس میں انسان بھنگ استعمال کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ نہیں پاتا۔ نوعمر دماغ پر بھنگ کے اثرات سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں، نوجوانی میں استعمال کرنے والوں میں نفسیاتی امراض ، بائی پولر ڈس آرڈر اور ڈپریشن کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے،جبکہ طویل المدتی استعمال سے آئی کیواور یادداشت میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔



