صحت

وائے کروموسوم کا ختم ہونا کس بیماری کی علامت ہے؟ تحقیق آگئی

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کی سربراہی میں کی گئی ایک تحقیق میں اب ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو ایک جینیاتی ڈومینو ایفیکٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمل کارسینوما (کینسر کی ایک قسم) بننے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے جس کے باعث وائے کروموسوم کا ختم ہونا مستقبل میں کینسر کے امکان کی ایک نئی اہم علامت بن سکتا ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی اپنے اس نازک سے وائے کروموسوم سے ضرورت سے زیادہ جذباتی وابستگی نہیں رکھنی چاہیے۔ تقریبا 40 فی صد مردوں میں 70 سال کی عمر تک جسم کے کچھ ٹشوز ایسے ہو جاتے ہیں جن کے خلیوں میں وائے کروموسوم کی ایک کاپی موجود نہیں رہتی۔ اگر کوئی شخص 90 سال کی عمر تک پہنچ جائے تو وائے کروموسوم کے ختم ہونے کے امکانات تقریبا 60 فی صد تک بڑھ جاتے ہیں۔

وائے کروموسوم کا یہ نقصان پورے جسم میں ایک موزیک اثر پیدا کرتا ہے جس میں ہر وہ خلیہ جو یہ کروموسوم کھو دیتا ہے، اپنے اردگرد ایسے ٹشوز کا ایک منفرد گروہ تشکیل دے سکتا ہے جو جسم کے دوسرے خلیوں سے جینیاتی طور پر مختلف ہو۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ موزیک اثر صحت کے مختلف مسائل سے منسلک پایا گیا ہے جن میں گردوں کی دائمی بیماری، فائبروسس (ٹشوز کا سخت اور داغ دار ہونا) اور شدید کووڈ-19 کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی شامل ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button