باب المندب میں بحری قزاقوں کا حملہ، جہاز پر قبضہ، عملہ یرغمال

باب المندب (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی تجارت کی اہم آبی برگرگاہ باب المندب میں بحری قزاقوں نے حملے کرکے ناصرف جہاز پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ پورے عملے کو یرغمال بھی بنا لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صومالی بحری قزاقوں نے جہاز کو قبضے میں لے کر اس کے عملے کو یرغمال بنالیا، جہاز پر پاکستانی اور سری لنکن عملہ موجود تھا، جہاز پر موجود عملے میں 11 پاکستانیوں سمیت مجموعی طور پر 2 درجن سے زائد افراد موجود ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی اور اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے، بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے، 115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی آبنائے باب المندب 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا، بحیرہ احمر میں موجود آبنائے باب المندب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، تقریبا ایک چوتھائی عالمی بحری تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔



