کشمیر سے متعلق متنازع بیان، خواجہ آصف کو نواز اور مریم کی پشت پناہی حاصل، بلاول کا بڑا مطالبہ

میر پور (کھوج نیوز) کشمیر سے متعلق متنازع بیان پر خواجہ آصف کو نوازشریف اور مریم نواز کی پشت پناہی ہے جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بڑا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولا کوٹ اور میرپور کے بارے میں جو وزیر کہہ رہے ہیں حکومت کو تو احساس ہی نہیں، میرا مطالبہ ہے کہ وزیر کے بیان پر معافی مانگیں یا عہدہ چھوڑیں، تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے کہ میرپور اور راولا کوٹ کشمیر نہیں، کشمیر پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے ان کے ساتھ نہیں جو کشمیر مخالف بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا مظفرآباد میں ان کے قائدین نے تقریر کی لیکن اپنے وزیر کے بیان کی مذمت نہیں کی، آپ کون ہو فیصلہ کرنے والے کہ کشمیری کون ہے؟ کل نا سابق وزیرا عظم اور نہ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے وزیر کے بیان کی مذمت کی، اس سے لگتا ہے کہ آپ اپنے وزیر کی بیان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی دیکھا ہے کہ چولستان، پوٹھوہار، راجن پور، وہاڑی کا حال کیا ہے؟ یہ کہتے تھے کہ ہم گلگت بلتستان کو لاہور بنادیں گے لیکن جی بی کے لوگ نہیں مانے، جی بی کے لوگوں نے کہا کہ جب یہ اپنی حکومت میں کچھ نہ بناسکے تو جی بی کو کیا بنائیں گے، یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے کہ کچھ کہوں یا نہ کہوں، یہ چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کریں اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا فیصلہ عوام نہیں پاکستان کا وزیراعظم کرے، یہ چاہتے ہیں کہ رائے ونڈ کا شہری جو چار بار وزیراعظم بنا ہے وہ آزادکشمیر کا بھی وزیراعظم بنے۔ بلاول نے کہا یہ لوگ ایسے بات کرتے ہیں جیسے نہ باپ وزیر اعظم رہا ہے نہ چاچا وزیر اعظم ہے ، جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے وہ گلگت بلتستان کو کیا لاہور بنائیں گے، یہ ایسے شیر ہیں جو حقوق دیتے نہیں حقوق کھاتے ہیں ، ن لیگ والے آپ کے پیر پڑ رہے ہیں ، الیکشن نکل جائیں گے تو یہ لوگ آپ کے گلے پڑ جائیں گے۔
بلاول بھٹو نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے پنجاب میں ہر علاقے میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے والد اور چچا وزیراعظم یا وزیراعلی نہ رہے ہوں، عوام کو بتائیں تین تین بار حکومت رہی کوئی سڑک بنانی تھی تو بناکر دکھا دیتے۔ انہوں نے کہا عوام کی کیا غلطی ہے کہ آج آزادکشمیر کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، احتجاج جب پر امن نہیں رہتا تو پھر نقصان ہوتا ہے، جیسے احتجاج کرنے والے عوام کو سزا دے رہے ہیں ویسے ہی ریاست بھی سزا عوام کو دے رہی ہے۔



