اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی: اقوام متحدہ کی رپورٹ

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر بڑے پیمار پر قتل و غارت کی ، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا ۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے خودمختار بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف دیگر جرائم اور جنگی جرائم کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ کمیشن، جو خود اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا، نے پہلی بار ستمبر 2025 کی ایک رپورٹ میں اس بات کا تعین کیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ جنگ میں اسرائیل نے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔اسرائیل کے عام انتخابات سے ایک روز قبل جاری ہونے والی اس نئی رپورٹ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں اور آباد کاروں کی مسلسل پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کے خلاف ایک وسیع اور منظم حملہ شروع کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور افواج نے مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم، جن میں قتل عام، تشدد، عصمت دری اور دیگر جنسی تشدد شامل ہیں، کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شہریت، نسل اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ تین رکنی اس تفتیشی ٹیم کو 2021 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے قائم کیا تھا۔ اس تحقیقات کی نومبر 2025 تک سربراہی کرنے والی جنوبی افریقا کی سابق ہائی کورٹ جج ‘نوی پلے’ نے رواں ماہ کے اوائل میں امن کا نوبل انعام بھی جیتا ہے۔
رپورٹ میں ایسے کیسز کا بھی حوالہ دیا گیا جہاں کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی فورسز کا ارادہ شہریوں کو شدید نقصان پہنچانے اور قتل کرنے کا تھا جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مخالف فلسطینی مسلح گروپوں کے اراکین کو ریاستی تشدد کانشانہ بنایا گیا اور مسلسل نشانہ بنایا گیا ہے اور اس طرح فلسطینی سول و سیاسی اپوزیشن کو دبایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی ساکھ اور قانونی حیثیت کے مسائل سے دوچار ہے اور یہ ان فلسطینیوں کو نشانہ بناتی ہے جو سول اور سیاسی نظریات سے اختلاف کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔
کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلیدھر نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر قتل اور زخمی کرنا اور گھروں کو تباہ کرنا دراصل فلسطینیوں کے خاتمے، ان کی بے دخلی اور زندگی کے ناقابلِ برداشت حالات مسلط کرنے کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ قرار دینے کی کوشش، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو روک رہی ہے۔
کمیشن کی یہ نئی رپورٹ اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی اور فلسطینی دونوں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہونے والی ہلاکتوں اور جسمانی و ذہنی نقصانات پر مرکوز ہے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے مختلف مقامات پر فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانا اعلی سطح کی ہم آہنگی اور منظم منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حکام کے طرزِ عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جانتے تھے اور ان کا ارادہ تھا کہ آباد کاروں کا تشدد مغربی کنارے میں وسیع اور منظم حملے کا حصہ ہو۔



