صحت

ذیابیطس سے بچنے کیلئے کتنے قدم چہل قدمی کرنی چاہیے؟

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس سے بچنے کے لئے کتنے قدم چہل قدمی کرنی چاہیے؟ اس حوالے سے برطانیہ کی مانچسٹری میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں ہونیوالی تحقیق نے سب کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ چہل قدمی سے بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، یہاں تک کہ کچھ وقت کی چہل قدمی سے بھی یہ فائدہ ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کی مانچسٹر میٹرو پولیٹن یونیورسٹی اور آئرلینڈ کی لیمرک یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں ماضی کی 7 تحقیقی رپورٹس کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق میں بیٹھنے، کھڑے ہونے اور چہل قدمی سے انسولین، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر پر مرتب اثرات کا موازنہ کیا گیا تھا۔

محققین کے مطابق ان تینوں عناصر سے کسی فرد میں دائمی امراض جیسے امراض قلب اور ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کے شکار افراد اگر محض اپنی جگہ سے کھڑے بھی ہو جائیں تو بھی ان کے بلڈ شوگر کی سطح میں بیٹھنے کے مقابلے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ہلکی چہل قدمی سے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے مقابلے میں بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ سے 2 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 20 سے 30 منٹ تک مسلسل چہل قدمی بلڈ شوگر کی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ درحقیقت گھر کے اندر یا ٹریڈ مل پر چلنے سے بھی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی آتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button