آئی پی ایل میں گرل فرینڈز کلچر، بھارتی بورڈ نے دھجیاں اڑا کر رکھ دیں

ممبئی (سپورٹس ڈیسک) انڈین کرکٹ لیگ (آئی پی ایل) میں گرل فرینڈز کلچر سے تنگ آ کر بھارتی بورڈ (بی سی سی ) نے تمام کھلاڑیوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کھلاڑیوں کی دوستوں کی وجہ سے بورڈ اور لیگ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، اس لیے بھارتی کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی دوستوں کی لیگ میں نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آئی پی ایل کے دوران پبلک میں کھلاڑیوں کی دوستوں کی حد سے زیادہ نقل و حرکت سے بھارتی بورڈ ناخوش ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہاردک پانڈیا، یشسوی جیسوال، ایشان کشن اور ارشدیپ سنگھ اپنی دوستوں کے ساتھ گھومتے ہیں، کھلاڑیوں کی پارٹنرز ٹیم کی بس میں سفر کرتی اور ٹیم کے ہوٹل میں رہتی ہیں۔ گرل فرینڈز کلچر کو روکنے کے لیے بھارتی بورڈ نے قوانین بنانے کا آغاز کر دیا ہے، بھارتی بورڈ کو خدشہ ہے کہ یہ کہیں بڑا ایشو نہ بن جائے، کچھ پارٹنرز سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں جنہوں نے جوئے کی ایپس کی پروموشن بھی کی ہے۔
بورڈ آفیشل نے کہا ہے کہ آفیشل پارٹنرز کا بھارتی بورڈ میں کوئی قانون نہیں، اینٹی کرپشن یونٹ کو بتا دیا گیا ہے، بھارتی بورڈ کے اگلے اجلاس میں نئے قوانین سامنے لائے جائیں گے، قوانین کا اطلاق آئی پی ایل کے علاوہ بھارتی ٹیم پر بھی ہو گا۔اس حوالے سے بھارتی بورڈ کے آفیشلز کا کہنا ہے کہ ماضی میں پارٹنرز اور کھلاڑیوں کے معاملات پولیس شکایات تک پہنچ چکے، اب اس کلچر کو نہ روکا گیا تو بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ٹیم کی بسوں کی آمد و رفت پارٹنرز کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔



