صحت

مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی مٹھاس جگر کی بیماری کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟ اس حوالے سے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی طبی تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سوربیٹول (جو کم کیلوری والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے) بعض حالات میں میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) یعنی فیٹی لیور کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے اس عام تصور کو بھی چیلنج کیا ہے کہ شوگر الکوحل جسم سے بغیر کسی اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔

سوربیٹول عام طور پر شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر غذاں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر بعض پھلوں اور سبزیوں، خصوصا آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے اسٹون فروٹس (ایسے پھل جن کے بیج کے گرد ایک خول ہوتا ہے) میں بھی پایا جاتا ہے۔ایم اے ایس ایل ڈی (جسے پہلے نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز یا این اے ایف ایل ڈی کہا جاتا تھا) موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر میٹابولک مسائل سے جڑی ایک عام جگر کی بیماری ہے۔ اس سے پہلے کی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ فرکٹوز فیٹی لیور کے بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ یہ بیماری دنیا بھر میں تقریبا 30 فی صد بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button