امریکا ایران کیساتھ کتنے ارب ڈالر کے عوض یورینیم معاہدے پر غور کر رہا ہے؟

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا ایران کے ساتھ کتنے ارب ڈالر کے عوض یورینیم معاہدے پر غور کر رہا ہے؟ اس حوالے سے امریکی نیوز ویب سائٹ نے تہلکہ خیز انکشاف کر ڈالا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ منصوبے میں ایک اہم تجویز یہ ہے کہ امریکا ایران کے منجمد 20 ارب ڈالر جاری کرے گا جس کے بدلے ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کردے گا۔ ویب سائٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی ایک بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں موجود تقریبا 2 ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل نہ کر سکے، خصوصا وہ 450 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق اسی دوران امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا تمام جوہری مواد امریکا منتقل کرے جبکہ ایران نے صرف اسے اپنے ملک میں ہی ڈان بلینڈ (کم افزودہ) کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ ایگزیوس کا بتانا ہے کہ ایک زیر غور تجویز یہ بھی ہے کہ زیادہ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے جبکہ باقی یورینیم کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کم افزودہ کیا جائے۔ ویب سائٹ کے مطابق اس وقت زیرِ غور 3 صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی پر رضاکارانہ پابندی بھی شامل ہے۔



