ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے: محسن نقوی

اسلام آباد(کھوج نیوز) وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس دن معاہدہ ہو جاتا تو آج ایمرجنسی نہ لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے، ہم یہ نہیں کر سکتے کہ فوج اور پولیس والے شہادتیں دیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشتگردی پر ہوئی تھی، دہشتگردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی، اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اسد قیصر سے کہا آپ کا اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے، پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔ محسن نقوی نے کہا مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلی کو دی گئی ، وزیراعلی نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔
انہوں نے کہا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ فوج اور پولیس والے شہادتیں دیں، ہماری شہادت ہوتی تھیں اور سی ایم ان کے خلاف تقریر کرتے تھے جو شہید ہوئے، ہم نے سیاسی بات کو دہشتگردی سے نتھی نہیں کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، 25 نومبر کو جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کو کہا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں، انہوں نے کہا نہیں ہماری بانی سے فون پر بات کرائی جائے پھردھرنے کو مخر کریں گے، جب فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا ہم مانتے ہی نہیں، کہا گیا کہ ہم مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں گے۔ محسن نقوی بولے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراں گا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا، ہم سلاخوں کے پیچھے لیکرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔



